اسلامی دعوت
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنہ تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دیا گیا ۔ وہ شرک کا فتنہ تھا ۔ چنانچہ مفسرین نے ان آیات میں فتنے کی تفسیر ’’ شرک ‘‘ سے کی ہے ۔ تاہم یہاں فتنے سے مراد مطلق شرک نہیں بلکہ شرک جارح ہے ۔ کیونکہ شرک جب جارح ہو تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے ۔ حتی لا تکون فتنة کا مطلب ہے حتی لا یفتتن رجل عن دینہ۔ یعنی شرک جارح سے لڑکر اسے ختم کر دو تاکہ دین شرک بے زور اور مغلوب ہوکر رہ جائے اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دین توحید دنیا میں باقی رہے۔ شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں اس نے ’’ فتنہ‘‘ کا مقام حاصل کرلیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانہ میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملہ کو شرک کے نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا تھا حتی کہ سیاست وحکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی ۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور شاہی خاندان اپنے آپ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتاکر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ اس بنا پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو قدیم بادشاہوں کو یہ نظریہ ان کے حق حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے ہوجاتے ۔ عرب میں اور اطرافِ عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا اس نے شرک کو فکری غلبہ کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدہ کی ہوگئی نہ کہ ایک ایسے عوامی نظریہ کی جس کے اوپر سماجی زندگی کا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجہ شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا ۔ کیونکہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے حق حکمرانی کا دعوی کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔ معلوم انسانی تاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی ۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر مظاہر فطرت کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔ وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لئے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں ۔ وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں (خلق لكم ما فى الارض جميعا، بقرہ ۲۹) اب آدمی نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے ۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے تاریخ میں تہمانی دور کو ختم کر کے سائنس کے دور کو شروع کیا ۔ اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا دور کم از کم نظریاتی طور پر ختم ہوگیا اور عوامی حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، کسی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حق حکمرانی کے لئے زمین باقی نہیں رہی۔ ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینہ سے ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سلی ہوتا ہوا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader