Urdu book · احیاء اسلام

اسلامی دعوت

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔ اس مدت میں قدیم حالات کے اثر سے اس فکری تحریک کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا سفر جاری رہا۔ مخالف طاقتوں کی کوئی بھی کوشش اس میں کامیاب نہ ہوسکی کہ وہ مظاہر فطرت کے تقدس کے دور کو دوبارہ اس کی سابقہ عظمت کے ساتھ واپس لاسکے۔ اور نہ کسی حکمراں کے لئے کبھی یہ ممکن ہوا کہ وہ اس طرح مقدس بادشاہ ہونے کا مقام حاصل کرلے جیسا کہ عراق کے نمرود اور مصر کے فرعون کو قدیم زمانہ میں حاصل تھا۔ مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف ابتداء تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمل مسلم دنیا میں ہوتا رہا۔ مگر سولھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب آیا۔ مسلمانوں کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ایک طرف بغداد کی عباسی خلافت ٹوٹ گئی اور دوسری طرف اسی باہمی اختلاف کے نتیجہ میں اسپین کا مسلم اقتدار ختم ہوگیا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں کوئی ادارہ ان لوگوں کی سرپرستی کرنے والا نہ رہا جو علی و فکری تحقیق کا کام کر رہے تھے۔ چنانچہ علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد دھیرے دھیرے اٹھی اور فرانس کی طرف منتقل ہوگئی۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یورپ میں ان لوگوں کو بہت پذیرائی ملی۔ انقلابی عمل جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہورہا تھا، وہ یورپ کی دنیا میں ہونے لگا۔ تاہم یورپ پہنچ کر اس کے اندر ایک تبدیلی آگئی۔ مسلم دنیا میں یہ کام اسلام کے زیما اثر ہو رہا تھا، یورپ کو اسلام سے دل چسپی نہ تھی، اس نے اس کو اسلام سے جدا کر کے خالص علمی حیثیت سے فروغ دینا شروع کیا۔ اگرچہ مسلم علوم اور عربی زبان کی اس منتقلی کا اثر یورپ کے مسیحی عقائد پر بھی پڑا۔ حتی کہ مارٹن لوتھر (۱۴۸۳ء-۱۵۴۶ء) براہ راست طور پر یورپ کے اوپر اسلامی اثرات کی پیداوار تھا۔ تاہم علمی وفکری تحریک کا ارتقا یورپ میں آزاد سیکولر شعبہ کے طور پر ہوا نہ کہ مذہب کے ایک ذیلی شعبہ کے طور پر۔ جدید مغرب کا سائنسی اور جمہوری انقلاب تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے۔ البتہ مغرب نے اس کو مذہب سے جدا کر کے سیکولر شکل دے دی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید مغربی انقلاب، اسلامی انقلاب کی ایک دنیوی صورت ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایٹم بم آئن شائن کے نظریہ اضافیت کی فوجی صورت ہے اور قومی ملکیت مارکسی نظریہ کی معاشی صورت۔ جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت جدید مغربی انقلاب، اپنی عمومی حیثیت میں، خود اسلام کا پیدا کردہ تھا اور اس کے نتائج اسلامی نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ اس انقلاب نے دنیوی اعتبار سے اس دعا کی تکمیل کر دی تھی جس کو خدا نے ان الفاظ میں ہمیں تلقین کیا تھا: اے ہمارے رب، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا (بقرہ) اس انقلاب کے نتیجہ میں زندگی کے نظام میں ہمارے موافق جو تبدیلیاں ہوئیں وہ خاص طور پر تھیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page