اسلامی دعوت
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۔ قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیدہ بیٹھا کر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی اولاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانہ میں توحید کی دعوت فوراً سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی اور مشترک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو دہ اپنے حق حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ اسلامی انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا کیونکہ آج کا حکمران عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضہ الوہی رشتہ جوڑ کر۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشہ کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلہ میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤ سیاسی ادارہ سے ہو جائے اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔ ۲۔ قدیم زمانہ میں مظاہر فطرت (سورج ، چاند، دریا وغیرہ) کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پو جنے کی چیز سمجھی جاتی تھی وہ اب تحقیق و تجسس کی چیز بن گئی۔ اس کے نتیجہ میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں دے دیں۔ اس انقلاب کے ذریعہ تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں اور جدید ذرائع ابلاغ (پریس، ریڈیو وغیرہ) تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہو گیا کہ کسی عقیدہ کی تبلیغ عالمی اور بین اقوامی سطح پر کی جاسکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلہ سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلہ میں داخل ہوگئی۔ ۳۔ اس انقلاب کے ذریعہ کائنات کے دہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں اعلیٰ علی دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنھوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لئے انھیں قابل فہم بنادیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزہ کا بدل بن جائیں۔ دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جاسکے۔ ۴۔ پھر اسی انقلاب کے ذریعہ تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسی ، بالفاظ دیگر، واقعاتی نقطہ نظر پیدا ہوا۔ کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لئے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام ذہن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رد سے دیکھا جانے لگا نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذاہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔ اسی انداز مطالعہ کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader