غلبۂ اسلام
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
غلبۂ اسلام اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا سوال آج ساری دنیا کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ ابھرا ہوا سوال ہے۔ مگر اس سلسلے میں ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض اسباب سے ان کے اندر عظمت ماضی کو دوبارہ واپس لانے کی ایک مجہول خواہش تو ضرور پیدا ہو گئی ہے مگر ماضی کی تاریخ کو حال کا واقعہ بنانے کے لئے جو ضروری عمل درکار ہے اس کا واضح شعور انہیں حاصل نہیں۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلمانوں کو فضائلِ اسلام کی طلسماتی کہانیاں سنا کر مسجدوں کی آبادی میں اضافہ کرو، اور اس کے بعد ساری دنیا اپنے آپ تمھاری ہو جائے گی۔ مگر یہ حل ایسا ہی ہے جیسے ٹوٹے ٹوکے کے ذریعہ ہمالیہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانے کی امید قائم کر لی جائے۔ دوسرا طبقہ پر جوش تقریریں کرنے اور شاعرانہ الفاظ بولنے کو مسئلہ کا حل سمجھتا ہے۔ وہ بھول گیا ہے کہ خدا کی دنیا محکم قوانین کی دنیا ہے۔ یہاں لفظوں کا کمال دکھا کر کسی واقعہ کو ظہور میں نہیں لایا جا سکتا۔ ایک اور طبقہ اس انقلابی غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اپنے کسی بادشاہ کو تخت سے اتار کر یا اپنے کسی حکمران کو پھانسی پر چڑھا کر وہ اسلام کی عظمت رفتہ کو واپس لانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں کہ یہ مسئلہ عالمی طاقتوں کو زیر کرنے کا مسئلہ ہے نہ کہ قوم کے کچھ افراد کو اسلام دشمنی کی علامات ٹھہرا کر ان کو کسی نہ کسی تدبیر سے ہلاک کر دینے کا۔ تبدیلی اقتدار کا قانون قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کا مالک اللہ ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے (آلِ عمران ۲۶) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کسی گروہ کا غلبہ یا اقتدار حاصل کرنا کوئی سادہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ براہ راست خدا کے فیصلہ کے تحت ہوتا ہے۔ ایک گروہ کا غلبہ ہمیشہ دوسرے گروہ کی مغلوبیت کی قیمت پر ہوتا ہے۔ ایسے ایک واقعہ کے ظهور کے لئے خارجی دنیا میں ایسی وسیع تر تبدیلیوں کا پیش آنا ضروری ہے جو ایک گروہ کے حق میں حالات کو موافق کر دیں اور دوسرے گروہ کے حق میں اس کو مخالف بنا دیں۔ اجتماعی زندگی میں اس قسم کا غیر معمولی تغیر ہمیشہ مافوق اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ انقلاب خواہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، ہمیشہ ان اسباب کے زیر اثر آتا ہے جو کبھی کسی شخص یا جماعت کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے۔ روس کا اشتراکی انقلاب (۱۹۱۷) پہلی جنگ عظیم کے پیدا کردہ ہنگامی حالات کے بطن سے نکلا۔ موجودہ صدی کے وسط میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کی مغربی استعمار سے آزادی دوسری جنگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader