غلبۂ اسلام
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کے سالوں میں اگر چہ یہ عظیم سلطنت ٹوٹ گئی اور اسلام کی سیاسی قوت کم ہو گئی۔ مگر اس کی روحانی فتوحات بغیر وقفہ کے برابر جاری رہیں۔ مغل قبائل نے جب ۵۸ ۱۲ء میں بغداد کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کی شان و شوکت کو خون میں غرق کر دیا، اس وقت اسلام جزیرہ سماترا میں اپنی جگہ بنا چکا تھا اور جزائر ملایا میں اپنا فاتحانہ سفر شرع کر رہا تھا۔ اپنے سیاسی زوال کے زمانہ میں اسلام نے اپنی بعض انتہائی نمایاں روحانی فتوحات حاصل کی ہیں۔ دو بڑے مواقع پر کا فرقبائل نے اپنے پاؤں محمد کے پیروؤں کی گردن پر رکھ دئے تھے۔ گیارھویں صدی عیسوی میں سلجوق ترکوں نے اور تیرھویں صدی عیسوی میں مغلوں نے، مگر ہر بار فاتح نے اپنے مفتوح کے مذہب کو قبول کر لیا۔ مشرق میں وحشی منگولوں کے تیراندازوں کی یلغار اور مغرب میں زرہ پوش صلیبی سرداروں کے درمیان تیرھویں صدی عیسوی کے ابتدائی حصہ میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسلام ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ مگر اسی صدی کے آخری حصہ میں صورت حال کتنی مختلف ہو چکی تھی۔ آخری صلیبی اس وقت سمندر میں دھکیلا جا چکا تھا۔ گیارہہ تاتاری خانوں میں سے ساتویں خان نے، جن میں سے اکثر کے یہاں عیسائی بیویاں تھیں اور) وہ عیسائیت کی طرف مائل تھے، بالآخر اسلام کو سرکاری مذہب کے طور پر تسلیم کر لیا۔ محمد کے مذہب کی یہ کیسی شان دار فتح تھی۔ بالکل سلجوقوں کے معاملہ کی طرح، مسلمانوں کے مذہب نے وہاں کامیابی حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو چکے تھے۔ ہلاکو کے ہاتھوں اسلامی تہذیب کی بے رحمانہ تباہی کے بعد نصف صدی سے بھی کم مدت میں اس کا پوتا غازان مسلمان ہو کر اسی تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت اور قوت خرچ کر رہا تھا۔ (فلپ کے ہٹی)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader