غلبۂ اسلام
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تاریخی سبق تاتاریوں کا یہ قیامت خیز واقعہ امام تقی الدین ابن تیمیہ (۲۸۷- ۷۲۸ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ اسلام کی عظمت کو مٹتا ہوا دیکھ کر انھیں جوش آیا۔ امام ابن تیمیہ مجاہدانہ جذبہ کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے شام ومصر کے مسلمانوں کو یہ نعرہ دیا کہ جنگ کا علاج جنگ ہے (الحرب انفی للحرب) وہ ۷۰۲ ھ میں مصر کے سلطان الناصر کے ساتھ تاتاریوں سے جنگ کے لئے نکلے۔ ابتدائی طور پر انھیں تاتاریوں کے ایک دستہ کے مقابلہ میں کچھ فوجی کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر بالآخر تاتاری غالب رہے اور امام ابن تیمیہ کچھ دن دمشق کے قلعہ میں اور کچھ دن تدریس و تصنیف میں زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے گئے۔ امام ابن تیمیہ تاتاریوں کے مسئلہ کو فوجی قوت سے ختم کرنا چاہتے تھے مگر وہ اس کو ختم نہ کرسکے۔ عین اس وقت اسلام کی دعوتی قوت ظاہر ہوئی اور اس نے تاتاریوں کے مسئلہ کو نہ صرف ختم کیا بلکہ ان کو اسی اسلام کا خادم بنا دیا جس کی جڑوں کو اکھاڑنے کے لئے وہ قسمیں کھا چکے تھے ـــــــــ آٹھویں صدی ہجری کا یہ تجربہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے سبق دے رہا تھا کہ اسلام کی حفاظت اور اس کی سربلندی کے لئے انھیں کیا کرنا چاہئے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے اس عظیم تاریخی واقعہ سے کوئی سبق نہیں لیا۔ موجودہ زمانہ میں دور جدید کے "تاتاریوں" کی طرف سے اسلام کے لئے مسائل پیدا ہوئے تو دوبارہ مسلمانوں کی پوری قیادت حملہ آوروں کے خلاف سیاسی جہاد میں مصروف ہوگئی۔ اس پوری مدت میں کوئی قابل ذکر شخص نظر نہیں آتا جو دعوتی جہاد کو جہاد سمجھے اور اس کے لئے سرگرم ہو۔ اسلام جدید دور میں نپولین نے ۱۷۹۸ء میں مصر و شام پر حملہ کیا۔ اس سے دو سو سال پہلے سولھویں صدی عیسوی میں پرتگالی تاجر ہندوستان اور دوسرے ایشیائی ملکوں میں داخل ہو چکے تھے۔ اس کے بعد دوسری مغربی قومیں آئیں۔ اس طرح پچھلی چند صدیوں میں پرتگال، ہالینڈ، فرانس اور برطانیہ نے پوری مسلم دنیا پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اولاً برصغیر ہند کی مغل سلطنت اور اس کے بعد ترکی کی عظیم عثمانی خلافت ختم ہوگئی۔ موجودہ صدی میں اگر چہ سیاسی استعمار ختم ہو چکا ہے مگر تکنیکی استعمار کی صورت میں مغرب اب بھی پوری طرح مسلم دنیا پر چھایا ہوا ہے۔ دفاعی ہتھیاروں کی خریداری سے لے کر قرآن مقدس کی طباعت و اشاعت تک تمام کاموں کے لئے مسلمان انھیں مغربی قوموں کے دست نگر ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader