Urdu book · احیاء اسلام

غلبۂ اسلام

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

قوموں میں پھیلتا جارہا ہے ۔ ہندوستان میں ہر نچجن عمومی پیمانہ پر اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ جاپان میں سنجیدہ طبقہ بہت تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہو رہا ہے ۔ امریکہ میں کالی نسل کے لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ افریقہ کے پس ماندہ قبائل ہر دن ہزاروں کی تعداد میں اسلام کے دائرہ میں داخل ہورہے ہیں ، وغیرہ۔ اسلام کی یہ لہر صرف نچلے طبقات تک محدود نہیں ہے ۔ موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر ملک میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اونچی حیثیت کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کیا ہے ، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کی کسی کوشش کے بغیر اپنے آپ ہو رہا ہے۔ مواقع انتظار کرتے رہے ۱۹ ویں صدی کے نصف ثانی اور ۲۰ ویں صدی کے نصف اول میں جب کہ مسلم قائدین انتہائی بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان سے اپنا سر ٹکرا رہے تھے، متعدد ایسے نمایاں واقعات ظہور میں آئے جو کھلا ہوا اشارہ دے رہے تھے کہ کرنے کا کام دعوت و تبلیغ ہے نہ کہ حکمرانوں سے سیاسی تصادم ۔ نمونہ کے طور پر ایک واقعہ ملاحظہ ہو: كان ميكاد واليابان قد ارسل في زمن وجود السيد بالاستانه (۱۸۹۱) كتابا الى السلطان عبد الحميد يخطب فيه مودته ويقول : ان كلا منا ملك شرقي ، ومن مصلحتنا ومصلحة شعوبنا ان نتعارف وننتزا در وتكون الصلات بيننا قوية تجاه الدول والشعوب الغربية التي تنظر الينا بين واحدة ، انثى اری شعوب الاثن نجي يرسلون الى بلادنا دعاة الى دينهم لحرية الدين ضنا ناولا اراكم تفعلون ذلك ، فانا احب ان ترسلوا الينا دعاة يدعون الى دينكم (الاسلام) ويمكن ان يكون هولاء صلة معنوية بيننا وبينكم (صفحه (۳۷) محمود ابوریه ، جمال الدين افغانی ، بحنة التعريف بالاسلام ، القاهره، ۸۶ ۱۳ هـ ۱۸۹۱ء میں جب کہ سید جمال الدین افغانی آستانہ (ترکی) میں تھے ، جاپان کے شہنشاہ مجی (۱۹۱۲ - ۱۸۶۷ ) نے سلطان عبد الحمید ثانی کے پاس ایک خط بھیجا۔ اس خط میں اس نے دوستی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ہم دونوں مشرقی بادشاہ ہیں ۔ ہماری مصلحت اور ہماری قوم کی مصلحت یہ ہے کہ ہم باہم متعارف ہوں اور ملیں جلیں۔ اور ہمارے درمیان مضبوط رشتہ ہو تا کہ ہم مغربی قوموں اور سلطنتوں کا مقابلہ کر سکیں جو ہم سب کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ مغربی قومیں ہمارے ملک میں اپنے دینی مبلغ بھیج رہی ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں مذہبی آزادی ہے۔ مگر میں نہیں دیکھتا کہ آپ بھی ایسا کرتے ہوں۔ میں اس کو پسند کرتا ہوں کہ آپ بھی جاپان میں ایسے لوگ بھیجیں جو یہاں آپ کے دین اسلام کی تبلیغ کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ہمارے اور آپ کے درمیان مضبوط معنوی رشتہ قائم ہو جائے۔ شہنشاہ جاپان کا یہ خط جب ترکی کے دارالسلطنت پہنچا، اس وقت سید جمال الدین افغانی اور دوسرے بڑے علماء اور اکابر وہاں موجود تھے سلطان عبدالحمید ثانی نے ان لوگوں کو جمع کر کے شہنشاہ جاپان کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page