غلبۂ اسلام
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
مغربی تسلط کا مسئلہ پیدا ہوتے ہی پوری مسلم دنیا میں اس کے خلاف تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اب بھی بدستور جاری ہیں۔ پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کے درمیان جتنی بھی تحریکیں اٹھتی ہیں سب کے پیچھے اصل قوت محرکہ یہی اجنبی تسلط کا مسئلہ نظر آتا ہے۔ یہ تحریکیں بظاہر ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ سب کا طرز فکر بنیادی طور پر سیاسی ہے۔ ان سب کو ایک عنوان کے تحت جمع کرنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کا مقصد اجنبی اقوام کے پیدا کردہ مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا تھا۔ یہ تحریکیں تقریباً بلا استثنا صدفی صد ناکام رہیں۔ جان و مال کی بے پناہ قربانیوں کے باوجود ان کا کوئی حقیقی حاصل مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا ــــ مسلمانوں کے عالمی سیاسی اتحاد کے لئے اتحاد اسلامی (پان اسلام ازم) کی تحریک چلائی گئی۔ مگر اس کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ عثمانی خلافت اور مغل سلطنت دونوں ٹوٹ گئیں اور ان کے زیر حکومت علاقے درجنوں الگ الگ مسلم خطے میں بٹ گئے مسلمانوں نے مغرب کے سیاسی استعمار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بے شمار جانیں قربان کیں اور بے حساب مال لٹادیا مگر عملاً صرف یہ ہوا کہ سیاسی استعمار ختم ہو کر سائنسی اور تکنیکی استعمار ان کے اوپر مسلط ہو گیا۔ مسلمانوں نے اجنبی محکومی سے نجات پانے کے لئے اپنی ساری طاقت لگا دی مگر جب اجنبی محکومی ختم ہوئی تو خود اپنے ملک کے ملحدوں اور باغیوں کی محکومی ان کے اوپر قائم ہو چکی تھی۔ مسلمانوں نے ایک اسلامستان بنانے کے لئے تاریخ کی سب سے بڑی قربانی دی۔ مگر جب وہ بنا تو صرف یہ ہوا کہ ایک واحد ملک کے مسلمان کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہو گئے ــــ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے سوال پر ساری مسلم دنیا ایک ہوگئی اور اس کے لئے وہ سب کچھ کر ڈالا جو ان کے بس میں تھا۔ مگر اسرائیل کا حال یہ ہے کہ اس کی طاقت اور رقبہ میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے جس جس میدان میں بھی کوشش کی ہے ہر میدان میں انھوں نے صرف کھویا ہے، انھوں نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ہے۔ بابل کے نبی جی کے الفاظ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کر رہا ہے“ مگر اس عمومی محرومی کی فضا میں حیرت انگیز طور پر ایک ایسا میدان موجود ہے جہاں اسلام اپنے آپ پیش قدمی کر رہا ہے۔ جب کہ بقیہ میدانوں میں بے شمار کوششیں اور قربانیاں بھی کوئی نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام ہیں، یہاں کسی قابل ذکر کوشش کے بغیر اپنے آپ مفید نتیجہ ظاہر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہ میدان اسلام کی اشاعت کا میدان ہے۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو غیر مسلموں تک پہنچانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ تقریباً ساری دنیا میں اسلام اپنے آپ غیر مسلم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader