Urdu book · احیاء اسلام

دیباچہ

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

دیباچہ وسط افریقہ میں نیروبی کے پاس ایک پہاڑی مقام ہے جس کا نام کیگالی (Kigali) ہے ۔ یہاں قدرتی مناظر کے خوبصورت ماحول میں ایک جدید اسلامی مرکز قائم کیا گیا ہے جس کا فرانسیسی نام (Le Centre Culturel Islamique) ہے۔ اس مرکز میں تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع دسمبر ۱۹۸۱ء میں ہوا جس میں راقم الحروف کو دعوت دین اور احیارِ اسلام کے موضوع پر لیکچر دینے کے لئے بلایا گیا ۔ اس موقع پر پیش کرنے کے لئے چند لیکچر ترتیب دئے گئے تھے۔ تاہم بعض ناگزیر اسباب کی بنا پر میں اس میں شریک نہ ہو سکا۔ اب یہ مجموعہ زیر نظر کتاب کی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے ۔ موجودہ کتاب ان لیکچروں کا اردو ایڈیشن ہے۔ ان کا عربی ایڈیشن علیحدہ کتاب کی صورت میں شائع ہوگا ۔ ان خطبات میں مختلف پہلوؤں سے جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ یہ کہ اسلام کے احیاء کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ گہرا فکر اور دور رس منصوبہ بندی ہے ، سطحی خوش فہمیوں اور وقتی کارروائیوں سے یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہو سکتا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام (۱۹۸۰-۲۱۶۰ ق م ) نے اپنی اولاد کو حجاز میں بسایا اور کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے یہ دعا کی کہ خدایا ، تو ان کے اندر ایک پیغمبر بھیج جو ان کو تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے ۔ یقیناً تو عزیز و حکیم ہے (البقرہ ۱۲۹) حضرت ابراہیم کی یہ دعا پوری طرح قبول ہوگئی ۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے ، نبی عربی کا ظہور اس دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد چھٹی صدی عیسوی میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ اچانک واقعات کو ظاہر کر دے ۔ خدا اپنے فیصلہ کو حالات کے درمیان ظاہر کرتا ہے نہ کہ طلسمات کے درمیان۔ حضرت ابراہیم کی دعا کی قبولیت کے باوجود نبی عربی کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ حالات اپنی فطری رفتار سے چل کر وہاں پہنچ چکے تھے جہاں پہنچنے کے بعد وہ وقت آگیا تھا کہ اب آخری رسول کو دنیا میں بھیج دیا جائے۔ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے رہائی حکمت درکار ہے۔ اس کے لئے اس یقین کی ضرورت ہے کہ مستقبل میں چھپی ہوئی فصل کی خاطر ہم اپنے دانہ کو زمین میں دفن کر سکیں ۔ اس کے لئے اس صبر کی ضرورت ہے کہ چنار کے پودے کو درخت کی صورت میں دیکھنے کے لئے ہم سو سال کا انتظار کر سکیں۔ اس کے لئے وہ بلند نظری درکار ہے کہ پھول کی طرح ہم دوست دشمن سب کے لئے مہکیں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page