دیباچہ
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
سورج کی طرح ہر پست و بلند کے لئے چکیں، پیغمبر کی دعا جب حقائق کی پوری رعایت کرتے ہوئے اپنی تکمیل کو پہنچی تو ہماری کوئی جدوجہد حقائق کی رعایت کے بغیر کس طرح واقعہ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ کسی نظام زندگی کا غلبہ ہمیشہ نظام فکر میں غلبہ کے بعد ہوتا ہے۔ جمہوری نظام جدید دنیا میں اس وقت رائج ہو سکا جب کہ طویل نظریاتی جدوجہد کے بعد بادشاہی طرز فکر پر جمہوری طرز فکر کو عمومی غلبہ ہو گیا۔ اسی طرح اشتراکی نظام اس وقت قائم ہوا جبکہ اعلیٰ ترین دماغوں کی مسلسل کوشش نے اجتماعی ملکیت کے تصور کو انفرادی ملکیت کے تصور پر نظری فتح دے دی۔ اسلام کا احیاء بھی آج کی دنیا میں اسی طرح ہو گا۔ قدیم زمانہ میں شرک کے نظام کو غلبہ حاصل تھا۔ رسول اور آپ کے اصحاب نے بے پناہ دعوتی کوشش سے موحدانہ طرز فکر کو مشرکانہ طرز فکر پر غالب کیا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ توحید کی بنیاد پر زندگی کا عملی نظام بنایا جا سکے۔ دور اول میں جو انقلاب آیا تھا اس کے اثرات تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہے۔ اس کے بعد حالات بدلنا شروع ہوئے۔ اب موجودہ زمانہ میں یہ تبدیلی اس انتہا کو پہنچی ہے کہ قدیم شرک کی جگہ جدید ہيومنزم نے لے لی ہے۔ آج کی دنیا میں ہر طرف انسان پرستی کا غلبہ ہے۔ جو معاملہ پہلے توحید بمقابلہ شرک تھا، وہ اب خدا پرستی بمقابلہ انسان پرستی ہو گیا ہے۔ اس صورت حال کو ختم کرنے کے لئے پہلے ہمیں فکری انقلاب لانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ کوئی حقیقی عملی انقلاب وجود میں آ سکے۔ جس طرح قدیم زمانہ میں ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں خدا نے شرک کے مقابلہ میں توحید کو غالب کرنے کے حالات فراہم کئے تھے اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں توحید کے مقابلہ میں انسان پرستی کو زیر کرنے کے لئے بھی بہترین موافق حالات جمع کر دیئے گئے ہیں۔ تاہم ان کو استعمال کرنے کے لئے صبر اور ہوش مندی کی ضرورت ہے۔ ہمارے اسلاف نے پچھلے مواقع کو صبر اور ہوش مندی کے ساتھ استعمال کر کے دور اول میں توحید کو غالب کیا تھا۔ اسی طرح اب دور ثانی میں بھی جدید پیدا شدہ مواقع کو صبر اور ہوش مندی کے ساتھ استعمال کر کے ہی اسلام کو دوبارہ غالب اور سربلند کیا جاسکتا ہے۔ یہ کام نہ طلسماتی خوش فہمیوں سے ہوگا اور نہ پرجوش ہنگامہ آرائیوں سے۔ اسلام کے غلبہ اول کی تاریخ اس کے غلبہ ثانی کے طریقہ کو بتانے کے لئے بالکل کافی ہے۔ وحیدالدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader