Urdu book · احیاء اسلام

غلبۂ اسلام

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے جسم کے ذریعہ ہو رہا ہے : کیسی عجیب بات ہے ۔ جدید انسان کو جہاں اپنی زندگی کی کہانی اسلام کے بغیر نامکمل دکھائی دیتی ہے، وہاں ہمیں کرنے کا کوئی کام نظر نہیں آتا۔ اور جہاں جدید انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کے بغیر اس کی کہانی آخری حد تک مکمل ہے، وہاں ہم اس کی پتھریلی دیوار سے اپنا سر ٹکرارہے ہیں۔ اس سے زیادہ عبرتناک منظر شاید آسمان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہی واحد امید ہے، دنیا کی بھی اور خود مسلمانوں کی بھی ۔ دنیا ، اپنی تمام ترقیوں کے باوجود، اس لئے بے چین ہے کہ اس کو مالک کائنات کی سچی رہنمائی حاصل نہیں۔ مسلمان اس لئے برباد ہیں کہ ان کے ذمہ خدا کی سچائی کو دوسروں تک پہنچانے کا کام سپرد کیا گیا تھا اور اس کو انھوں نے چھوڑ دیا۔ بقیہ دنیا حق سے محرومی کی سزا بھگت رہی ہے اور مسلمان حق سے غفلت کی۔ یہ صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک مسلمان حق کے داعی بن کر کھڑے نہ ہوں۔ دوسرے کاموں میں مشغول ہونا یا دوسرے کاموں کو دعوت و تبلیغ کا نام دینا صرف ان کے جرم میں اضافہ کرتا ہے، نہ کہ وہ انھیں خدا کی رحمتوں کا مستحق بنائے ۔ مسلمان اگر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو ان کے لئے اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ اور اگر وہ اس مطلوبہ کام کے لئے نہ اٹھیں تو خدا کی اس دنیا میں ان کے لئے کچھ نہیں۔ آسٹریلیا کی ایک مسیحی خاتون نے اپنی کتاب میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بجاطور پر لکھا ہے : یہ اسلام کا ایک سرسری خاکہ ہے ۔ اور اس میں ہماری بے چین دنیا کے لئے بہت کچھ ہے۔ مگر یہ بظاہر ایک چھوڑا ہوا خزانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کو ان لوگوں نے چھوڑ رکھا ہے جو اس کا نام لیتے ہیں۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ ان کی زندگیاں اس عظمت سے بہت مختلف ہیں جو میں نے بیان کیا۔ اور جب تک وہ دوبارہ اس اسلام کی طرف واپس نہ ہوں وہ حیران و پریشان انسانیت کے قافلے سے بچھڑے ہی رہیں گے ۔ کیونکہ خدا کی طرف سے یہی ایک علاج اور روشنی اور رہنمائی ہے ان کے لئے بھی اور ساری دنیا کے لئے بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page