Urdu book · احیاء اسلام

غلبۂ اسلام

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر ہم نے قرآن کے اس ارشاد کا تاریخی مطالعہ کیا ہے کہ عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں ہے (مائدہ ۶۷) یہ بات جب پہلی بار پیغمبر کی زبان پر جاری کی گئی تو وہ واقعات سامنے نہیں آئے تھے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ تاریخ ابھی مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی۔ ایسے وقت میں ان الفاظ پر یقین لانا اور اس کی راہ میں اپنے جان و مال کو وقف کرنا بلا شبہ مشکل ترین کام تھا۔ تاریخ کو اس کے اختتام پر دیکھنا جتنا آسان ہے، تاریخ کو اس کے آغاز پر دیکھنا اتنا ہی زیادہ مشکل ہے۔ دور اول کے مسلمانوں نے تاریخ کے مشکل ترین کام کو انجام دیا۔ انھوں نے واقعہ کے ظہور میں آنے سے پہلے واقعہ کو دیکھا اور اس کی خاطر مطلوبہ عمل کیا۔ اس کے مقابلہ میں ہمارے حصہ میں تاریخ کا آسان ترین کام آیا تھا۔ ایک اصول کے تاریخی واقعہ بن جانے کے بعد ہمیں اپنی زندگیوں میں اسے دہرانا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہمارے پیش رو تو مشکل ترین امتحان میں پورے اترے اور ہم آسان ترین امتحان میں بھی ناکام ہو گئے۔ بے شک اللہ انکار کرنے والوں کو راستہ نہیں دکھاتا (مائدہ ۶۷) اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلمان اگر خدا کے بتائے ہوئے اصول پر دعوت الی اللہ کا کام کریں تو خدا ان کے مخالفین کو ایسا اندھا کر دے گا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہ کر سکیں اور ان کو برباد کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہوں۔ تاہم دوسرا پہلو کے اعتبار سے اس کا تعلق خود داعی سے بھی ہے، اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مسئلہ کی وضاحت کے بعد اگر مسلمان اس کو نہ مانیں اور اس طریقہ کو چھوڑ کر وہ اپنے تحفظ اور احیار کے لئے دوسرے راستوں میں محنت کریں تو خدا ان کی محنتوں کو بار آور ہونے نہ دے گا۔ وہ ان کو کامیابی کے رخ پر نہیں چلائے گا۔ ان کی بڑی بڑی کوششیں بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مسلمانوں کی کوششوں کے ساتھ یہی کچھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے احیاء کے لئے جان و مال کی بے حساب قربانیاں دیں مگر ان کی تمام قربانیاں بالکل لا حاصل ہو کر رہ گئیں۔ حضرت مسیح سے پہلے نبی حجتی نے جو کچھ یہود کے بارے میں کہا تھا وہ آج پوری طرح مسلمانوں کے اوپر چسپاں ہو رہا ہے ــــ تم نے بہت سا لوبیا پر تھوڑا کاٹا تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجتی۔ اور مزدور اپنی مزدوری سوراخ دار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ تم نے بہت کی امید رکھی اور تم کو تھوڑا ملا اور جب تم اپنے گھر میں لائے تو میں نے اسے اُڑا دیا۔ مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھائیں۔ مگر خدا نے ان کے "کھیلان" کو ہوا میں اُڑا دیا۔ یہ خدائی تنبیہ اگر مسلمانوں کے لئے کافی نہیں تو اس کے بعد ان کی بیداری کے لئے صور اسرافیل کا انتظار کرنا چاہئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page