جدید معقولات
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے وجود کو فطرت کے قانون کے ذریعہ ثابت کر دیا ہے کیونکہ ایک ججھے ہوئے مادی گولے کے اندر ایک وقت خاص میں بیرونی سمت کی طرف مسلسل حرکت کسی خارجی محرک کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس نظریہ پر ایک امریکی سائنس داں رابرٹ جیسٹرو (Robert Jastrow) کا مضمون شائع کرتے ہوئے ریڈرز ڈائجسٹ (اکتوبر ۱۹۸۰) نے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: کیا فلکیاتی علما ر خدا کو پا گئے ہیں : Have Astronomers Found God وہ سائنس داں جنھوں نے یہ عقیدہ بنالیا تھا کہ کائنات کے ہر واقعہ کی اس طرح عقلی توجیہ کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کسی طبعی واقعہ کا نتیجہ نظر آئے۔ ایسے لوگ اس دریافت سے بے حد گھبرا اٹھے کیونکہ اس سے کائنات میں طبعی عمل اور رد عمل کے بجائے ایک زندہ خدا کی اسادی کارفرمائی نظر آتی تھی۔ حقائق کا انکار ان کے لئے ممکن نہ تھا، انھوں نے اس واقعہ کی اہمیت کو گھٹانے کے لئے اس کا نام بگ بینک (بڑا دھماکہ) رکھ دیا۔ گویا کہ کائنات کا آغاز بس ایک بڑا پٹاخہ چھوڑنے کا معاملہ تھا اور بس۔ اسی قسم کے ایک امریکی عالم نے ایک مذہبی شخص سے مذاق کے انداز میں پوچھا کہ خدا نے جب زمین و آسمان نہیں بنائے تھے اس وقت وہ کیا کر رہا تھا۔ مذہبی شخص نے بگڑ کر جواب دیا کہ وہ ان لوگوں کے لئے جہنم تیار کرنے میں مشغول تھا جو اس قسم کے سوالات کرتے ہیں : He was creating hell for people who asked questions like that ب۔ قرآن کہتا ہے کہ موجودہ دنیا آخری دنیا نہیں۔ اس کے بعد ایک اور دنیا ہے۔ یہ دنیا اگرچہ آج ہم کو اپنی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی مگر وہ ایک عکس حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ قرآن کے اس دعوے کے حق میں بھی قدیم متکلمین نے فلسفیانہ قیاسات کے ذریعہ دلائل قائم کر لئے تھے۔ مگر قرآن نے اس کے حق میں ایسی دلیل پیش کی جس کو انسان اپنے تجرباتی علم کے ذریعہ جان سکتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ومن کل شی خلقنا زوجين لعلكم تذكرون (ذاريات ۴۹) اور ۔ ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑ بنایا تا کہ تم دھیان کرو یعنی جب ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے تو اس کا کائناتی قانون کے مطابق موجودہ دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہئے جو اس کی تکمیل کرے۔ دنیا کے اسی جوڑے کا نام آخرت ہے۔ آدمی میں اور جانوروں میں جوڑے کا ہونا انسان کو قدیم ترین زمانہ سے معلوم تھا۔ پھر درختوں کے اندر جوڑے ہونے کا علم ہوا۔ تاہم ۱۹۲۸ تک یہ معلوم نہ تھا کہ جامد مادہ کا بھی جوڑا ہوتا ہے۔ اسی سال ریاضیاتی طبیعیات کے ایک عالم پال ڈیراک (Paul A.M. Dirac) نے مادی ذرہ کے ساتھ ایک نئے قسم کے غیر مادی ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا۔ ۱۹۳۲ میں اینڈرسن (K. Anderson) نے کا سمک شعاعوں کے مطالعہ کے دوران معلوم کیا کہ الیکٹران کے ساتھ ایک اور ذرہ ہے جو اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ اس نئے ذرہ کا نام ایٹمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader