جدید معقولات
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
الیکٹران رکھاگیا۔ یہ تحقیق آگے بڑھتی رہی۔ بالاخر معلوم ہوا کہ کائنات کے تمام ذرات جوڑوں (Pair Particles) کی شکل میں ہیں۔ پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل ، ایٹم کا اینٹی ایٹم ، میٹر کا اینٹی میٹر ، حتی کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ جیسا کہ ڈیراک نے ۱۹۳۳ میں بتایا۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میٹر کی ترکیب سے بنی ہے، اب کائناتل قانون کے مطابق ایک اور دنیا اینٹی میٹر سے ترکیب یافتہ موجود ہونا چاہئے۔ قیاس ہے کہ ۲۰ ہزار ملین سال پہلے جب بگ بنگ کا واقعہ ہوا تو اسی وقت فوٹان میٹر اور اینٹی میٹر کی دو مختلف صورتوں میں مجتمع ہوگئے اور ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کو بنانے میں لگ گئے۔ اس نظریہ پر پہلے سویڈش طبیعیات داں اوسکرکلین (Osker Klein) اور طبیعی فلکیات داں ہینز الفوین (Hannes Alfven) نے کام کیا تھا اور ۱۹۶۳ میں اپنے نتائج تحقیق پیش کئے ۔ اس کے بعد سوویت ریاضی داں ڈاکٹر گستاف نان (Gustav Naan) نے اس کو مزید مستحکم کیا۔ ڈاکٹر گستاف نان کا کہنا ہے کہ اینٹی ورلڈ کو طبیعیات کے معلوم نظریات قوانین کے ذریعہ پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا یقین ہے کہ اینٹی ورلڈ آج بھی موجود ہے مگر وہ ہم سے آزاد اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے ۔ ہماری موجودہ دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم (Unstable) حالت میں ہیں۔ مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم (Stable) حالت میں ہوں گے۔ کیونکہ تمام ایٹوں کے نیو کلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج۔ ج۔ اس سلسلہ میں ایک اور مثال لیجئے ۔ قرآن میں فرعون کے بارے میں ارشاد ہوا ہے : فاليو اليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية پس آج ہم تیرے جسم کو بچالیں گے تاکہ تو پیچھے آنے والوں و ان كثيرا من الناس عن آياتنا لغافلون کے لئے ایک نشان رہے۔ اور بہت سے لوگ ہیں جو یونس ۹۲ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ اس آیت کے مطابق خدا نے فرعون کی لاش کو بعد کی نسلوں کی عبرت کے لئے محفوظ کر دیا تھا۔ ۱۸۹۸ کی بات ہے کہ مغرب کے ماہرین اثریات نے فرعون کی لاش کو قدیم مصری شہر تھیبس (Thebes) سے کھدائی کرکے نکالا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ کا سابقہ مصر کے دو فرعونوں سے ہوا تھا۔ آپ رَمیس دوم کے زمانہ میں پیدا ہوئے۔ مگر غرقابی کا واقعہ اس کے بعد اس کے بیٹے مرنفتاح (Merneptah) کے ساتھ پیش آیا۔ جس کا زمانہ تیرہویں صدی قبل مسیح ہے۔ دونوں فرعونوں کی حمی کی ہوئی لاش اب قاہرہ کے عجائب خانہ میں عام زیارت کے لئے موجود ہے۔ سائنسی جانچ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مرنفتاح وہی فرعون ہے جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں پانی میں غرق ہو کر مرا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader