احیارِ اسلام
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکوں میں مجموعی طور پر دس کروڑ آدمی ہلاک اور برباد ہوگئے۔ اس کے باوجود زمین کے اوپر کوئی ایک چھوٹا سا خطہ بھی نہیں جہاں اسلامی انقلاب حقیقی معنوں میں کامیاب اور نتیجہ خیز نظر آتا ہو۔ یہ محض اتنی ہی نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ سخت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری کوششوں کا بالکل الٹا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ ہمارے حق میں بائبل کے وہ الفاظ پورے ہوئے ہیں جو یہود کے بارے میں کہے گئے تھے "اور تمھارا بیج بونا فضول ہوگا کیونکہ تمھارے دشمن اس کی فصل کھائیں گے۔ اور جن کو تم سے عداوت ہے وہی تم پر حکمرانی کریں گے۔ اور تمھاری قوت بے فائدہ صرف ہوگی کیونکہ تمھاری زمین سے کچھ پیدا نہ ہوگا۔ اور میدان کے درخت پھلنے ہی کے نہیں۔" (احبار، باب ۲۶) ہماری جدید تاریخ ان الفاظ کے عین مصداق ثابت ہورہی ہے۔ ہم نے خلافت اسلامی اور اتحاد عالمی کی دھواں دھار تحریکیں چلائیں اور اس کی راہ میں ان گنت قربانیاں دیں۔ مگر جب نتیجہ نکلا تو ساری مسلم دنیا بہت سی قومی حکومتوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ہم نے آزادی وطن کے لئے جہاد کیا مگر جب وطن آزاد ہوا تو عملاً وہ دوسرے فرقوں کے قبضہ میں چلاگیا۔ ہم نے اسلامی پاکستان وجود میں لانے کے لئے قربانیاں دیں مگر جب اسلامی پاکستان بنا تو وہاں غیر اسلامی لیڈروں کی حکومت قائم تھی۔ ہم نے مصر میں اسلامی اقتدار قائم کرنے کے لئے عظیم الشان تحریک اٹھائی مگر جب مصر کی قسمت کا فیصلہ ہوا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے فوجی حوصلہ مندوں کے ہاتھ میں جا چکا تھا۔ تقریباً ثلث صدی سے فلسطین کی یہودی ریاست کو مٹانے کے لئے جہاد جاری ہے اور مسلمانوں کا جان و مال بے پناہ مقدار میں تباہ ہورہا ہے مگر علّاً صرف یہ ہوا ہے کہ یہودی ریاست کی قوت اور وسعت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں آخری درد ناک خبر جو بہت جلد مسلمانوں کو سننے کی ہوگی وہ یہ کہ ایران میں نا قابل بیان قربانیوں کے بعد اسلامی اقتدار لایا گیا مگر یہ اسلامی اقتدار بہت جلد ملحد طاقتوں کا اقتدار قائم ہونے کا ابتدائی زینہ بن گیا۔ یہ موجودہ زمانہ کی پتھر سے بھی زیادہ سنگین حقیقتیں ہیں۔ کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ اپنے ذہن میں خوش خیالیوں کی ایک دنیا بنا کر اس میں جیتا رہے مگر آئندہ آنے والا مورخ یقیناً ہماری خوش خیالیوں کی تصدیق نہیں کرے گا۔ وہ یہ لکھنے پر مجبور ہوگا کہ فرانس اور روس کے انقلاب میں مرنے والوں کے حصہ میں پھر بھی یہ فائدہ آیا کہ انھوں نے عالمی فکر کا دھارا موڑ دیا۔ اس کے بعد دنیا میں شہنشاہی طرز فکر کے بجائے جمہوری طرز فکر رائج ہوگیا اور سرمایہ دارانہ طریق معیشت پر سوشلسٹ طریق معیشت کو فکری غلبہ حاصل ہوگیا۔ مگر اسلام کے نام پر برباد ہونے والے اگر چہ تعداد میں ان سے بھی زیادہ تھے مگر وہ عالمی فکر پر کسی قسم کا اثر نہ ڈال سکے۔ صدر اول کا اسلامی انقلاب بتاتا ہے کہ اگر ایک ہزار آدمی بھی یہ ثبوت دے دیں کہ وہ خدا کے دین کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں تو خدا ان کی قربانی کو قبول کر کے اسلام کو زمین پر غالب کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader