احیارِ اسلام
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں کروڑوں آدمیوں نے قربانی کا ثبوت دیا مگر خدا کی نصرت ان کا ساتھ دینے کے لئے آسمان سے نہیں اتری۔ وہ اس کے باوجود مغلوب ہی بنے رہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہماری یہ تمام قربانیاں حقیقتاً اس صراطِ مستقیم کے مطابق نہ تھیں جس کی پیروی پر خدا نے نصر عزیز اور فتح مبین کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الففتح) کوئی کسان اگر کہے کہ میں نے گیہوں کے بیج زمین میں ڈالے مگر اس سے گیہوں اگنے کے بجائے جھاڑ جھنکار اُگے تو ایسا کسان جھوٹ بولتا ہے۔ کیونکہ خدا کی اس دنیا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ آدمی گیہوں کے بیج بوئے اور اس سے اس کے لئے جھاڑ جھنکار اُگے۔ یہ ناممکن ہے، یہ کروڑ بار ناممکن ہے۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں ہماری قربانیاں اگر فی الواقع اس راہ پر ہوتیں جس راہ پر رسول اور اصحابِ رسول چلے اور اپنی جانیں دیں تو نا ممکن تھا کہ اتنی غیر معمولی کوششوں کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلے۔ واقعات کا یہ کھلا ہوا فیصلہ ہے۔ اگر اس کے باوجود کوئی آدمی خوش فہمی کے گنبد میں رہنا چاہے تو رہے۔ بہت جلد قیامت اس کے گنبد کو توڑ دے گی ۔ اس کے بعد وہ دیکھے گا کہ وہاں اس کے لئے جھوٹی خوش فہمیوں کے کھنڈر کے سوا اور کچھ نہیں۔ نصرتِ خداوندی قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو خدا تمھاری مدد کرے گا۔ اور تمھارے قدموں کو جما دے گا (یا ایہا الذین آمنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم ويثبت اقدامکم، محمد ، ) یہاں خدا کی نصرت کرنے سے مراد خدا کی اسکیم کے ساتھ موافقت ہے، یعنی واقعات کو ظہور میں لانے کے لئے خدا کا جو نقشہ ہے اور اس کے لئے اس نے جو موافق حالات فراہم کئے ہیں ان کے ساتھ اپنی کوششوں کو جوڑ دینا، جو لوگ اس طرح خدا کی نصرت کریں ان کو جوماؤ حاصل ہوتا ہے اور بالاخرہ وہ کامیاب رہتے ہیں۔ خدا کی اس دنیا میں خدائی منصوبہ سے مطابقت کر کے ہی کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے نہ کہ بطور خود آزادانہ عمل کر کے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ ایک پادری صاحب اپنے مکان کے سامنے ایک ہرا بھرا درخت دیکھنا چاہتے تھے۔ انھوں نے سوچا کہ اگر میں اس کا بیج بودوں تو وہ دس سال میں پورا درخت بنے گا۔ انھوں نے ایسا کیا کہ کہیں سے ایک بڑا درخت کھدوا یا پھر کئی آدمیوں کے ذریعہ اس کو وہاں سے اٹھوایا اور اس کو لاکر اپنے گھر کے سامنے لگا دیا۔ وہ خوش تھے کہ انھوں نے دس سال کی مدت ایک دن میں طے کرلی ہے، لیکن اگلے دن جب وہ صبح کو سو کر اٹھے تو ان کو یہ دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا کہ درخت کے پتے مرجھا چکے ہیں۔ شام تک شاخیں بھی لٹک گئیں۔ چند دن کے بعد درخت کے پتے سوکھ کر جھڑ گئے اور اس کے بعد ان کے گھر کے سامنے صرف لکڑی کا ایک تشنٹھ کھڑا ہوا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader