احیارِ اسلام
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
ہنگامہ آرائیاں کرتے رہے ۔ دین توحید اور دین شرک قرآن کے اشارات (البقرہ ۲۱۳) سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کے بعد جب انسان زمین پر آباد ہوا تو سب کا دین توحید تھا۔ یہ صورت چند سو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد لوگوں کے اندر مظاہر پرستی کا آغاز ہوا جس کا دوسرا نام شرک ہے۔ دکھائی نہ دینے والے خدا کو اپنا مرکز توجہ بنانا انسان کے لئے مشکل تھا۔ چنانچہ اس نے عقیدہ خدا کو مانتے ہوئے یہ کیا کہ دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنا لیا۔ یہی وہ دور ہے جب کہ سورج ، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع ہوئی ۔ پہاڑوں اور سمندروں کو دیوتا سمجھ لیا گیا۔ حتیٰ کہ انسانوں میں سے جس کے پاس عظمت واقتدار نظر آیا اس کو بھی خدا کا شریک فرض کر لیا گیا۔ اس طرح تقریبا ایک ہزار سال بعد وہ وقت آیا جب کہ توحید کا فکری غلبہ ختم ہو گیا۔ اور انسانی ذہن پر دین شرک غالب آگیا۔ ابتدائی دین توحید میں اس بگاڑ کے بعد خدا نے اپنے پیغمبر بھیجنے شروع کئے ۔ مگر ان پیغمبروں کو کبھی اتنی مقبولیت حاصل نہ ہو سکی کہ دین شرک کو مٹا کر دوبارہ دین توحید کو غالب اور سربلند کرتے۔ انسانی نسل اس زمانہ میں جن جن مقامات پر پھیلی تھی، ہر مقام پر خدا کے پیغمبر لگا تار آتے رہے (المومنون ۴۴) ایک حدیث کے مطابق ان پیغمبروں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی ۔ مگر تمام پیغمبروں کا یہ حال ہوا کہ ان کو استہزاء کا موضوع بنا لیا گیا (میں ۳۰) جب آدمی سچائی کا انکار کرتا ہے، بلکہ اس کا مذاق اٹھانے پر اتر آتا ہے تو یہ خواہ مخواه نہیں ہوتا۔ ایسا رویہ آدمی ہمیشہ کسی چیز کے بل پر اختیار کرتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ناز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ حق سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ یہ کیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے : فلما جاء تهم رسلم بالبينات فرحوا بما جب ان کے پاس ان کے رسول دلائل لے کر آۓ تو وہ عند هم من العلم وحاق بهم ما كانوا به اس علم پر مگن رہے جو ان کے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا یستهزؤن المومن ۸۳ اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ یہاں ”علم“ سے مراد وہ بگڑا ہوا مذہب ہے جو زمانہ گزرنے کے بعد ان قوموں کے نزدیک مقدس بن گیا تھا۔ اس قسم کا آبائی مذہب ہمیشہ ایک قائم شدہ مذہب ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مانے ہوئے بزرگوں کے نام وابستہ ہوتے ہیں۔ اس کے اوپر بڑے بڑے ادارے چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر ان کا پورا قومی ڈھانچہ کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کو لمبی روایات کے نتیجہ میں عظمت کا سب سے اونچا مقام مل چکا ہوتا ہے۔ ان قوموں کے پاس ایک طرف ان کا یہ مسلمہ مذہب تھا جو شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ دوسری طرف پیغمبر ایک ایسی توحید کی آواز بلند کرتا جو وقت کے ماحول میں اجنبی ہوتی تھی۔ اس کا داعی حق ہونا ایک ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader