احیارِ اسلام
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوے کی حیثیت رکھتا تھا جس کی پشت پر ابھی تاریخ کی تصدیقات جمع نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے پاس اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے لفظی دلیل کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس تقابل میں انھیں وقت کا پیغمبر واضح طور پر حقیر نظر آنا اور ان کا اپنا آبائی مذہب واضح طور پر عظیم۔ حضرت مسیح بے گھر تھے اور درخت کے نیچے سوتے تھے۔ دوسری طرف یہودیوں کا مذہبی سردار ہیکل کی عظیم عمارت میں جلوہ افروز تھا۔ پھر ہیکل کے صدر نشین کے مقابلہ میں درخت کے نیچے سونے والا لوگوں کو زیادہ برسر حق کیسے نظر آتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قومیں اپنے معاصر پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بناتی رہیں۔ اس استہزاء پر جو چیز انھیں آمادہ کرتی وہ ان کا یہ احساس تھا کہ ہم تو مسلمہ اکابر کا دامن تھامے ہوئے ہیں، پھر ان کے مقابلہ میں اس معمولی آدمی کی کیا حیثیت۔ اکابر کی اس فہرست میں اگر چہ قدیم انبیاء تک ہوتے تھے۔ مگر ان انبیاء کی حیثیت عملاً ان کے یہاں ایک قسم کے قومی ہیرو کی تھی نہ کہ فی الواقع دائی حق کی۔ اعلان کلمہ اللہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سڑکوں کے چوراہے پر کھمبا لگا ہوتا ہے جس میں ہری اور لال روشنیاں ہوتی ہیں۔ جس رخ پر ہری روشنی ہو ادھر سواریوں کو جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اور جس رخ پر لال روشنی ہو رہی ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ادھر سواریاں نہ جائیں۔ اگر کوئی سواری اس نشان دہی کی خلاف ورزی کرے تو وہ ٹریفک قوانین کے مطابق قابل سزا قرار پاتی ہے۔ دائی حق کی حیثیت اصلاً اسی قسم کے رہنما کھمبا کی ہے۔ وہ خدا کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے کہ زندگی کے راستوں پر کھڑا ہو کر لوگوں کو بتائے کہ وہ کدھر جائیں اور کدھر نہ جائیں۔ کون سا راستہ جنت کی طرف جا رہا ہے اور کون سا جہنم کی طرف۔ (و كذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهیدا) ابتدائی دور توحید کے بعد غلبہ شرک کے زمانے میں خدا کی طرف سے جو رسول آئے وہ اسی خاص مقصد کے لئے آئے۔ ان کو خدائے حقیقت کا صحیح علم دے کر کھڑا کیا کہ وہ قوموں کی رہنمائی کریں اور ان کو یہ بتائیں کہ کہ دنیا کی زندگی میں ان کے لئے صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ ہر نبی نے اپنی اس ذمہ داری کو پوری طرح انجام دیا۔ انھوں نے ان کی قابل فہم زبان میں دلائل کی پوری قوت کے ساتھ لوگوں کے سامنے حق کو پیش کیا اور مسلسل اتنی وضاحت کی کہ ان کے مخاطبین کے سامنے اتمام حجت کی حد تک خدا کا پیغام پہنچ گیا پھر جس نے رسول کا ساتھ دیا وہ خدا کے نزدیک جنتی ٹھہرا۔ جس نے رسول کو نہ مانا وہ سرکش اور باغی قرار دے کر جہنم میں ڈال دیا گیا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کو حق کے اعلان کے ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ دوبارہ حق کا اظہار ہو۔ حق کا اعلان تو یہ ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader