Urdu book · احیاء اسلام

احیارِ اسلام

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۔ دوسری بات یہ کہ داعی اور مدعو کے درمیان کسی بھی حال میں کوئی مادی جھگڑانہ کھڑا کیا جائے ۔ مدعو کو کسی بھی حال میں فریق نہ بننے دیا جائے، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس حکمت کی ایک نمایاں مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ قریش نے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ کر یہ صورت حال پیدا کر دی تھی کہ مسلم گروہ اور غیر مسلم گروہ دونوں ایک دوسرے کے جنگی فریق بن گئے تھے۔ تمام وقت جنگ کی باتوں اور جنگ کی تیاریوں میں گزرنے لگا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے ہر مطالبہ کو مانتے ہوئے ان سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ اس قدر یک طرفہ تھا کہ بہت سے مسلمانوں نے اس کو ذلت کا معاہدہ سمجھا، مگر خدا کے نزدیک وہ فتح مبین (الفتح ۱) کا دروازہ تھا۔ کیونکہ اس کے ذریعہ جنگی مقابلہ آرائی کی فضا ختم ہوتی تھی اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال ہو رہا تھا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد جیسے ہی اہل عرب جنگی فریق کے بجائے مدعو کے مقام پر آئے، ان کے درمیان دعوت حق کی آواز پھیلنے لگی۔ یہاں تک کہ صرف دو سال میں مسلمانوں کی تعداد تقریبًا دس گنا بڑھ گئی۔ جو کہ جنگ سے فتح ہوتا نظر نہ آتا تھا وہ دعوتی عمل کے ذریعہ مسخر ہو گیا۔ ۳۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مدعو پر قابو پانے کے بعد جو اس کے ساتھ فراخلی کا سلوک کیا جائے۔ اس معاملہ کی مثالیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد قریش کے تمام دہ لوگ پوری طرح آپ کے قابو میں تھے جنھوں نے آپ کے ساتھ اور مسلمانوں کے ساتھ بدترین ظلم کئے تھے۔ مگر آپ نے ماضی کے جرائم کی بنیاد پر کسی کو سزا نہ دی۔ سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ قریش کے لوگ جب بندھے ہوئے آپ کے سامنے حاضر کئے گئے تو آپ نے فرمایا: اذهبوا فانتم الطلقار (جاؤ تم سب آزاد ہو) کچھ لوگوں کے بارے میں آپ نے دقتی طور پر قتل کئے جانے کا حکم دے دیا۔ مگر اس کے بعد ان میں سے بھی ہر اس شخص کو معاف کر دیا گیا جب کہ اس نے یا اس کی طرف سے کسی نے آکر آپ سے جان بخشی کی درخواست کی۔ اس قسم کے سترہ نامزد آدمیوں میں سے صرف پانچ کو قتل کیا گیا جنھوں نے معافی نہیں مانگی تھی۔ احد کی جنگ میں وحشی بن حرب نے حضرت حمزہ کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد ہند بنت عتبہ نے آپ کی لاش کو لے کر اس کا مثلہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو دقتی طور پر آپ کی زبان سے نکل گیا کہ اگر اللہ نے مجھے ان کے اوپر فتح دی تو میں ان کے تین آدمیوں کا مثلہ کروں گا (لئن اظهرني الله عليهم لا مثلن بثلا ثين رجلا منهم، تفسير ابن کثیر، جلد ثانی، صفحه ۳۵۲) فتح مکہ کے بعد آپ نے جن سترہ آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا ان میں وحشی اور ہند دونوں شامل تھے۔ مگر دونوں نے جب آپ کی خدمت میں آکر معافی مانگی تو دونوں کو معاف کر دیا گیا۔ کیونکہ یہی طریقہ منصوبہ الہی کے مطابق تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page