احیارِ اسلام
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اصول بے صدم حکمت پر مبنی ہے۔ انسان پتھر نہیں ہے کہ ایک پتھر کو توڑ دیا جائے تو اس کے دوسرے قریبی پتھر توڑنے والے کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔ انسان زندہ معاشرہ کا ایک زندہ جزیرہ ہے۔ جب بھی ایک انسان پر جارحانہ کارروائی کی جاتی ہے تو اس کے قریبی لوگوں میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس طرح سماج میں تخریبی کارروائیاں جنم لیتی ہیں۔ فتح کے بعد بوقت نئی تعمیر میں لگتا وہ تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے میں صرف ہونے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد پچھلے مخالفین کو عمومی معافی دے کر آئندہ کے لئے ہر قسم کی تخریبی سرگرمیوں کا دروازہ بند کر دیا۔ مزید یہ کہ ان کی اکثریت اسلام قبول کر کے اسلام کی طاقت کا ذریعہ بن گئی، جیسے کہ عکرمہ ابن ابی جہل ۔ ۴۔ فتح و غلبہ حاصل کرنے کے بعد اجتماعی معاملات کی اصلاح کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلد بازی کا طریقہ اختیار نہیں فرمایا بلکہ صبر و تدریج کے ذریعہ اصلاحات کا نفاذ کیا۔ مکہ کے قریش دین ابراہیمی کے وارث تھے۔ مگر انھوں نے اصل دین ابراہیمی کو بگاڑ دیا اور اس میں بہت سی بدعتیں جاری کر دیں۔ مثلاً حضرت ابراہیم نے حج کو قمری مہینوں کی بنیاد پر ذی الحجہ میں قائم کیا تھا۔ قمری سال شمسی سال سے گیارہ دن کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قمری مہینوں کی مطابقت موسموں کے ساتھ باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ حج کبھی ایک موسم میں آتا اور کبھی دوسرے موسم میں۔ یہ صورت قریش کے تجارتی مفاد کے خلاف تھی۔ انھوں نے حج کو ہمیشہ گرمی کے موسم میں رکھنے کے لئے نسی (کبیسہ) کا طریقہ اختیار کر لیا۔ وہ قمری مہینوں میں ہر سال گیارہ دن بڑھادیتے۔ اس طرح نام اگر چہ قمری مہینوں کا ہوتا مگر عملاً اس کا سال شمسی سال کے ساتھ چلتا۔ اس کی وجہ سے تاریخیں ۳۳ سال تک کے لئے بدل جاتیں، ایک بار مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے بعد دوبارہ ۳۳ سال پر ایسا ہوتا کہ حج ابراہیمی طریقہ کے مطابق 10 ذی الحجہ میں پڑتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مامور تھے کہ وہ قریش کی بدعتوں کو ختم کر کے حج کو دوبارہ ابراہیمی طریقہ پر قائم کریں۔ فتح مکہ (رمضان ۸ھ) کے بعد آپ عرب کے حکمران بن گئے۔ آپ ایسا کر سکتے تھے کہ نسی کی بدعت کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیں۔ مگر آپ نے صبر سے کام لیا۔ اس وقت نسی کے ۳۳ سالہ دور کو پورا ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ آپ نے دو سال انتظار فرمایا۔ مکہ کے فاتح ہونے کے باوجود دو سال آپ حج کے لئے نہیں گئے۔ آپ نے صرف تیسرے سال (۱۰ھ) حج کی عبادت میں شرکت کی جو کہ ۳۳ سالہ دور کو پورا کر کے ٹھیک ابراہیمی تاریخ پر ذی الحجہ میں ہورہا تھا۔ اس وقت مشہور حجتہ الوداع میں آپ نے اعلان فرما دیا کہ اس سال حج جس طرح ہورہا ہے اسی طرح اب ہر سال ہوگا۔ اب نسی کا اصول ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاتا ہے۔ یہی بات ہے جو حجتہ الوداع کے خطبہ میں آپ نے ان الفاظ میں ادا فرمائی:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader