Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

روایتوں کی تصحیح

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

سمجھنے کے لیے بعض اوقات ضروری ہوتا ہے کہ ایک قول کو اس کے لفظی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ اس کو علامتی معنی میں لیا جائے۔ 7۔ ایک مرتبہ آپ نے حکم دیا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھا جائے۔ ظاہری الفاظ کی بنا پر کچھ صحابہ اس حکم کو دائمی سمجھتے تھے۔ عائشہ صدیقہ نے اس ارشاد کی حکمت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وقتی حکم تھا۔ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ کیا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ عائشہ نے کہا کہ: لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحّ (مسند احمد، حدیث نمبر 24707)۔ یعنی نہیں، اس زمانہ میں چند لوگ قربانی کر سکتے تھے۔ اس لیے آپ نے حکم دیا تا کہ جو قربانی کریں وہ ان کو کھلائیں جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے۔ عائشہ صدیقہ کی اس تصحیح سے مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کے گوشت کو جدید طریقوں کے مطابق ، لمبی مدت تک محفوظ رکھنا جائز ہے۔ موجودہ زمانہ کی نسبت سے یہ وضاحت بے حد اہم ہے۔ اگر عائشہ صدیقہ کی یہ وضاحت موجود نہ ہوتی تو مذکورہ حدیث کی حکمت معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا اور قربانی کے گوشت کو محفوظ کر کے اس کو دیر تک استعمال کرنا لوگوں کو اسلام کی تعلیم کے خلاف معلوم ہوتا۔ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کا کنٹری بیوشن اسلام میں کتنا زیادہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے عائشہ کی روایات کا مطالعہ بے حد اہم ہے۔ عائشہ کے ذریعہ بعد کے لوگوں کو جو چیزیں ملیں ان کا غالباً سب سے زیادہ اہم حصہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور اپنی پوری زندگی اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page