روایتوں کی تصحیح
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
سن کر میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جو تم سے یہ کہے کہ محمد ﷺ نے خدا کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ ۔ پھر یہ آیت پڑھی : لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (6:103) ۔ یعنی ، نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے اور وہ لطیف ہے ، خبر رکھنے والا ہے۔ اس کے بعد عائشہ نے یہ دوسری آیت پڑھی : وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ (42:51) ۔ کسی انسان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اللہ اُس سے باتیں کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے سے (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 4855)۔ عائشہ صدیقہ نے اس معاملہ میں جو وضاحت کی اس کے لیے غیر معمولی دینی جرات درکار تھی ۔ یہ دینی جرات کسی ایسے ہی شخص میں ہوسکتی ہے جس نے لمبی مدت تک پیغمبر اسلام ﷺ کی صحبت پائی ہو اور اس طرح کے امور میں پیغمبر اسلام ﷺ سے تبادلہ خیال کر کے دین میں گہری بصیرت حاصل کی ہو۔ 6۔ ابوسعید خدری کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے۔ اس کا سبب انہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان جس لباس میں مرتا ہے ، اسی میں وہ اٹھایا جاتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو کہا کہ خدا ابوسعید پر رحم کرے۔ لباس سے رسول اللہ ﷺ کا مقصود انسان کے اعمال ہیں ( يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّمَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَلَهُ الَّذِي مَاتَ عَلَيْهِ ) ۔ ورنہ آپ کا تو یہ صاف ارشاد ہے کہ لوگ قیامت میں ننگے بدن ، ننگے پیر اور ننگے سر اٹھیں گے ( عین الاصابہ للسیوطی ، صفحہ 49)۔ عائشہ صدیقہ کی اس وضاحت سے ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ حدیث کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader