حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ ہجرت سے آٹھ سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں ۔ 66 سال کی عمر میں 58 ھ میں انتقال کیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد خولہ بنت حکیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس سے پہلے مطعم بن عدی اپنے بیٹے جبیر سے عائشہ کے نکاح کا پیغام دے چکے ہیں۔ اس کو میں نے منظور بھی کر لیا ہے۔ اور خدا کی قسم ابو بکر نے کبھی کسی وعدہ کے خلاف نہیں کیا : وَاللهِ، مَا أَخْلَفَ أَبُو بَكْرٍ وَعَدَّا قَطُّ (دلائل النبوة للبيهقي ، جلد 2 ، صفحه (411) ۔ حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعد مطعم کے یہاں جا کر اس سے ملے۔ اس سے پوچھا کہ عائشہ سے اپنے بیٹے کے نکاح کی بابت تمہارا کیا خیال ہے۔ مطعم نے اپنے بیوی سے کہا کہ اس معاملے میں تم کیا کہتی ہو۔ بیوی نے حضرت ابو بکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم سے رشتہ کرنے میں مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہیں میرا لڑکا صابی (بے دین) ہو جائے اور اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر تمہارے مذہب (اسلام) میں داخل ہو جائے ۔ ابو بکر دوبارہ مطعم بن عدی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ اے مطعم ، تم کیا کہتے ہو۔ مطعم نے جواب دیا کہ میری بیوی نے جو کچھ کہا وہ آپ نے سن لیا۔ اس طرح مطعم اور اس کی بیوی دونوں نے رشتہ سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا کہ وعدہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہے۔ اب حضرت ابو بکر نے خولہ سے کہہ دیا کہ تمہارا پیغام مجھے منظور ہے۔ اس کے بعد مقررہ وقت پر رسول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader