حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مکان پر گئے، وہاں عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح ہوا۔ مہر پانچ سو درہم مقرر ہوا۔ اس واقعہ میں یہ سبق ہے کہ معاشرتی معاملات میں اگر کبھی کوئی بات ٹوٹ جائے تو اس سے دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد کوئی نیا خیر نکلنے والا ہو۔ چنانچہ سردار مکہ کے لڑکے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ ٹوٹا، مگر اس کے بعد انھیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ سے بہت چھوٹی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد وہ تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ اس نامساوی نکاح کی مصلحت یہ تھی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے حد ذہین تھیں۔ ان کے اندر اخذ (grasp) کی بے پناہ صلاحیت تھی۔ اس نکاح نے ان کی خداداد صلاحیت کو سارے عالم کے لیے مفید بنا دیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً دس سال رہیں۔ اس مدت میں انھوں نے رات دن آپ کو دیکھا اور آپ کی تمام باتیں سنیں۔ اس طرح علم دین اور حکمتِ اسلام کا بہت بڑا ذخیرہ ان کے دماغ میں جمع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انھوں نے اس علم نبوی کو امت تک پہنچایا۔ وہ تقریباً نصف صدی تک زندہ ٹیپ ریکارڈر بنی رہیں۔ حافظ ابن حجر ان کی بابت لکھتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہجرت سے تقریباً آٹھ سال پہلے ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ تقریباً 18 سال کی تھیں۔ انھوں نے آپ سے بہت سی باتیں یاد رکھیں اور آپ کے بعد تقریباً 50 سال تک زندہ رہیں۔ لوگوں نے ان سے بہت زیادہ باتیں اخذ کیں۔ اور احکام و آداب میں سے بہت سی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader