Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

سورہ نور کی روشنی میں

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

گیری کے لیے پیچھے رہا کرتے تھے۔ وہ صبح کو اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ قریب آکر پہچانا تو گھبراہٹ میں ان کی زبان سے نکلا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ یہ سن کر حضرت عائشہ کی آنکھ کھل گئی۔ انھوں نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔ حضرت صفوان نے خاموشی سے اپنا اونٹ ان کے قریب لاکر بٹھا دیا۔ حضرت عائشہ بھی خاموشی کے ساتھ اس پر سوار ہوگئیں۔ اب حضرت صفوان اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے چلنے لگے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت قافلے میں شامل ہوگئے۔ مدینہ میں یہ خبر پھیلی تو کچھ بد باطن لوگوں کو موقع مل گیا کہ وہ زوجہ رسول ﷺ پر جھوٹی تہمت لگائیں اور اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دینی تحریک کو بدنام کریں۔ حتیٰ کہ بعض سیدھے سادے مسلمان بھی اس الزام میں شریک ہوگئے۔ مثلاً حضرت حسان بن ثابت، حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش۔ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک یہ خبر گرم رہی۔ یہاں تک کہ قرآن میں اس کی تردید نازل ہوئی اور اس کے بارے میں واضح احکام دیے گئے۔ یہاں چند آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگائیں، پھر اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی (80) کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے (5-24:4)۔ جو لوگ یہ طوفان لائے ہیں وہ تمہی میں سے ایک جماعت ہیں۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو کہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے جو گناہ کمایا وہ اس کے لیے ہے اور جس نے اس کا بڑا بوجھ اٹھایا اس کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت نیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page