Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

استثنائی مثال قائم کی گئی جو صحبت کی کامل مثال تھی۔ جو صحبت کے فوائد کا کامل نمونہ تھی۔ مزید یہ کہ یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ بن گیا جو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک لوگوں کو صحبت کی اہمیت سے آگاہ کرتا رہے۔ عائشہ صدیقہ گویا صحبت رسول کی زندہ تفسیر ہیں۔ ان کی زندگی میں صحبت کے اصول نے گویا ایک ادارہ (institution) کی صورت اختیار کرلی۔ اب اس ادارہ کو امت کے اندر مستقل طور پر زندہ رکھنا ہے۔ ہر نسل کے سینئر افراد کو چاہیے کہ وہ اگلی نسل کے مردوں اور عورتوں کو صحبت کا یہ فیض پہنچاتے رہیں۔ تا کہ دین اسلام نہ صرف متن (text) کے اعتبار سے محفوظ رہے بلکہ صحبت کے ادارہ کی صورت میں اس کا ذہنی اور روحانی فیض بھی ہمیشہ جاری رہے۔ (عورت معمار انسانیت) سورۂ نور کی روشنی میں غزوہ بنی المصطلق 6ھ میں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوے سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آرہے تھے۔ آپ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ ان کی سواری کا اونٹ علاحدہ تھا۔ اس مقام پر قافلہ رکا۔ رات کو کوچ سے پہلے حضرت عائشہ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف چلی گئیں۔ وہاں ان کا ہار ٹوٹ کر گر گیا جس کو تلاش کرنے میں دیر لگی، ادھر کوچ کا وقت ہو گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ حضرت عائشہ اپنے ہودج میں ہیں ۔ چنانچہ سب اونٹوں کے ساتھ ان کا اونٹ بھی ہانک دیا گیا۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ انھوں نے رائے قائم کی کہ مجھ کو یہیں ٹھہرنا چاہیے ۔ آگے جا کر جب میں نہ ملوں گی تو لوگ تلاش کرتے ہوئے یہیں آئیں گے۔ اس کے بعد ان کو نیند آئی اور وہ وہیں سو گئیں۔ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ قافلے کی خبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page