Urdu book · عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ

سورہ نور کی روشنی میں

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

پالیں تو اس بنا پر ان کو ہرگز دھوکے میں نہ رہنا چاہیے کہ وہ خدا کے یہاں بھی اپنی برات کے لیے الفاظ پالیں گے۔ آخرت حقیقتوں کے کھل جانے کا مقام ہے۔ وہاں صرف وہ شخص بری الذمہ ٹھہرے گا جو حقیقت کی سطح پر جিয়ে۔ جو حقیقت سے انحراف کرے وہ آخرت میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ 6۔ اس قسم کے کسی واقعے کا پیش آنا بظاہر ایک ناپسندیدہ بات ہے۔ مگر اس میں خیر کا پہلو بھی چھپا ہوا ہے۔ اس قسم کے ایک واقعے کے درمیان یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون ذمہ دار ہے اور کون غیر ذمہ دار۔ کون اپنے سینے میں دوسرے بھائیوں کی خیر خواہی لیے ہوئے ہے اور کون ہے جس کے دل میں دوسروں کے لیے حسد اور بغض بھرا ہوا ہے۔ کون اللہ کی جواب دہی کے احساس کے تحت بولتا ہے اور کون جواب دہی کے احساس سے خالی ہو کر کلام کرتا ہے۔ اس طرح ایک طرف یہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کے ذریعہ بد باطن لوگوں کا بد باطن ہونا کھل جاتا ہے۔ دوسری طرف اہل حق کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ خدا کی توفیق سے صبر کی روش پر قائم رہیں اور اللہ کی مزید عنایتوں کے مستحق بنیں۔ 7۔ اس واقعے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حق کی دعوت جب بے آمیز شکل میں پیش کی جائے تو وہ لوگ کتنے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں جن پر اس دعوت کی زد پڑتی ہو۔ ان مخالفین میں ایک تو عام دنیا دار ہوتے ہیں۔ وہ بھی اگرچہ ایسی تحریک کے مخالف ہوتے ہیں، مگر ان کی مخالفت ایک دائرے کے اندر رہتی ہے۔ وہ داعی کو ناکام بنانے کے لیے زور لگاتے ہیں مگر اس کو بے عزت کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غزوہ اُحد کے واقعات میں آتا ہے کہ مکہ سے کافروں کا جو لشکر مدینہ پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page