عائشہ صدیقہ امت کی عظیم معلمہ
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
چڑھائی کرنے کے لیے روانہ ہوا تھا، وہ راستے میں ابواء کے مقام پر پہنچا جہاں پیغمبر اسلام کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر تھی۔ قریش کے کچھ پرجوش لوگوں نے چاہا کہ قبر کو کھودیں اور پیغمبر کی ماں کی بے حرمتی کریں۔ مگر خود قریش کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کو اس ارادے سے روکا (اخبار مکہ للازرقی، جلد 2، صفحہ 272)۔ وہ پیغمبر سے لڑنے جا رہے تھے مگر ان کی بے حرمتی کے لیے کوئی پست طریقہ اختیار کرنا ان کو گوارہ نہ ہوا۔ مگر یہود جو اپنے کو حق کا اجارہ دار سمجھتے تھے ان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انھوں نے بعض چیزوں کو بہانہ بنا کر آپ پر رکیک حملے کیے اور آپ کو اخلاقی حیثیت سے گرانے کی کوشش کی۔ مذکورہ تہمت طرازی کے اصل ذمہ دار یہی لوگ تھے۔ جو لوگ اپنے کو حق کا واحد نمائندہ سمجھتے ہوں، جب وہ اپنی حیثیت پر زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں تو ان کا رد عمل بے حد شدید ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف ایسی تحریک کا زور توڑنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے داعی کو بے عزت کرنے کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی قیادت کو بچانے کے لیے ہر چیز کو اپنے لیے جائز کر لیتے ہیں خواہ وہ کوئی ذلیل حرکت یا کوئی پست کارروائی کیوں نہ ہو۔ (الرسالہ، مئی 1980) دین کے نام پر بے دینی مدنی دور میں ایک بار ایک خلاف عادت واقعہ پیش آیا۔ اس کا تعلق حضرت عائشہ صدیقہ سے تھا۔ اس واقعہ کو خود ساختہ مفہوم دے کر کچھ لوگوں نے ایک بیہودہ افسانہ بنایا۔ یہ لغو افسانہ فوراً ہی سارے مدینہ میں پھیل گیا۔ اپنے خیال میں وہ اشاعت حق کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader