Urdu book · آخرت کا سفر

سوچیے، سوچیے، سوچیے

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب کہ انسان اچانک مر جاتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سو سال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ زمین پر پیدا ہونے والا ہر انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد موت کا تجربہ۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کر کے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص با اصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اس حقیقت کو پالے گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page