Urdu book · آخرت کا سفر

سوچیے، سوچیے، سوچیے

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ موت دراصل خالق کے سامنے حاضری کا دن ہے۔ انسان اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے، لیکن اس کی مدتِ حیات (life span) کو دوحصوں میں بانٹ دیا گیا ہے— موت سے قبل کی مدتِ حیات (pre-death period)، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات (post-death period)۔ موت سے پہلے کی مدتِ حیات امتحان (test) کے لیے ہے، اور موت کے بعد کی مدتِ حیات اپنے سابقہ ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا پانے کے لیے۔ انسان آج اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ اور باشعور وجود کی صورت میں پاتا ہے۔ یہ زندہ اور باشعور وجود ایک مستقل وجود ہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ یہ زندہ اور باشعور وجود اپنی اسی موجودہ صورت میں عارضی دنیا سے نکالا جاتا ہے اور اس کو اسی زندہ اور باشعور وجود کی حالت میں اگلی مستقل دنیا کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہ لمحہ ہر عورت اور ہر مرد پر لازماً آنے والا ہے۔ وہ ناقابلِ قیاس حد تک سنگین لمحہ ہوگا۔ موت کے بعد آنے والے اس دورِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page