آخرت کا سفر
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ پوائنٹ آف نو ٹرن (point of no return) کی سطح پر آئے گا۔ اس کے بعد آدمی کو صرف بھگتنا ہوگا، نہ کہ پیچھے لوٹ کر دوبارہ تیاری کرنا۔ دوڑ بے منزل ہر آدمی بے تکان بول رہا ہے۔ ہر آدمی آخری حد تک اپنی ضرورتوں کو بڑھائے ہوئے ہے۔ ہر آدمی لامحدود طور پر اپنی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ عیش اور راحت کی تمام چیزیں وہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے اکٹھا کرلے۔ یہ مادّیت کی طرف مجنونانہ دوڑ ہے، مگر نتیجہ کیا نکل رہا ہے ۔ ہر آدمی اِس احساس میں جیتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں ہوئیں ۔ جو فل فیل منٹ وہ چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ کرسکا۔ ہر عورت اور ہر مرد اِسی محرومی کے احساس میں جیتے ہیں۔ اِسی حال میں اُن کے رات اور دن گزرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کی تمناؤں کا گھروند احالات کے طوفان سے ٹکرا کر بکھر جاتا ہے۔ اور اگر حالات اس کو نہ توڑیں تو موت ہر حال میں اپنے وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader