المناک انجام
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر اکیلا ہو جائے اور اُس اکیلے پن کی حالت میں وہ ایک اور دنیا میں پہنچ جائے ، جہاں اُس کے پاس اُن چیزوں میں سے کوئی بھی چیز موجود نہ ہو جن کو موت سے پہلے وہ اپنی ملکیت سمجھتا تھا۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ تلخ حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر ایک کو پیش آنے والا ہے ۔ ہر انسان کو ایک ایسے دن کا سامنا کرنا ہے، جب کہ اُس سے اس کا سب کچھ چھوٹ گیا ہوگا اور اس کے آگے ایک ایسی ابدیت (eternity) ہوگی جس کا سامنا کرنے کے لیے اُس کے پاس کچھ بھی موجود نہ ہوگا۔ ہر انسان کے پاس ایک چیز وہ ہوتی ہے جس کو سامانِ حیات کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور چیز ہے جس کو اس کی ذاتی حیثیت کہا جا سکتا ہے۔ ہر آدمی اپنی جد و جہد کے ذریعے اپنی ایک پوزیشن بناتا ہے۔ وہ سماج کے اندر اپنا ایک درجہ حاصل کرتا ہے۔ ہر آدمی اپنی محنت سے اپنی ایک منفرد تاریخ بناتا ہے جو بظاہر اس کی شخصیت کا جز بن جاتی ہے۔ ان پہلوؤں سے وہ سماج میں ایک مخصوص درجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader