موت کا سبق
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
کے قدم جواب دے گئے۔ بولتے بولتے اس کی زبان بند ہوگئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہوگئیں۔ لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی، وہ سب اچانک ختم ہوگئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعمال کرتا ہے، تاکہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ وہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلائے۔ لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلے میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹایا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے: منھا خلقنا کم (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا تھا)، جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے: وفیھا نعيد كم (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈال رہے ہیں) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے: ومنها نخر جمك تارة أخرى (اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے)۔ یہ تین بار مٹی ڈالنا، اس پورے معاملے کا کلائکس (climax) ہے۔ اس طرح ایک زندہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader