تعزیتی جلسے ایک بدعت
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
تعزیتی جلسے ایک بدعت آج کل عام طور پر یہ رواج ہے کہ جب کوئی بڑا شخص مرتا ہے تو تعزیت کے نام پر جلسے کیے جاتے ہیں اور تعزیتی بیانات اخباروں میں چھپوائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ ایک بدعت ہے۔ اس قسم کی تعزیت کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ محض ایک مظاہرہ ہے، نہ کہ کوئی اسلامی عمل۔ اس طریقے کے بدعت ہونے کا یقینی ثبوت یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں تعزیتی دھوم کا ایسا کوئی واقعہ ثابت نہیں۔ موت کے بارے میں اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کیا جائے، اور اپنی تنہائیوں میں خدا سے اپنے لیے اور مرنے والے کے لیے دعائیں کی جائیں۔ موت کا واقعہ خدا کی طرف سے ایک یاد دہانی ہے، یہ یاد دہانی کہ جس طرح ایک شخص کی موت ہوئی ہے، اُسی طرح دوسرے تمام مردوں اور تمام عورتوں کی موت واقع ہوگی۔ موت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader