اپنی نمازِ جنازہ
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ سچی نماز جنازہ اُسی انسان کی ہے جو دوسرے کی موت میں اپنی موت کو یاد کرے ۔ وہ سوچے کہ آج جو کچھ مرنے والے کے ساتھ پیش آیا ہے ، وہی خود میرے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ موت کو دیکھ کر جو آدمی اس طرح سوچے ، وہ جب جنازہ کی نماز کے لئے کھڑا ہوگا تو اس کا احساس یہ ہوگا کہ میں خود اپنے جنازہ کی نماز پڑھ رہا ہوں ۔ جو کچھ دوسرے کے ساتھ آج پیش آیا ہے ، وہی میرے ساتھ کل پیش آنے والا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنی موت کو یاد کرے ، جو شخص اتنا زیادہ غافل ہو کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر بھی اس کو اپنی موت یاد نہ آئے ، وہ گویا کہ بے حس پتھر ہے۔ وہ بظاہر انسان ہے ، لیکن وہ انسانی صفات سے اِسی طرح خالی ہے جس طرح پتھر کا کوئی مجسمہ انسانی صفات سے خالی ہوتا ہے۔ موت کو یاد کرنا حساس (sensitive) انسان کی صفت ہے ، اور موت کو یاد نہ کرنا بے حس (insensitive) انسان کی صفت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader