آخرت کا سفر
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو ان ربانی اوصاف کا حامل بنائے ۔ جنت سچے انسانوں کی کالونی ہے۔ موجودہ دنیا میں اُنھیں سچے انسانوں کا انتخاب (recruitment) کیا جارہاہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی میں جولوگ کامل طور پر سچے انسان ثابت ہوں، وہی جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ رفیق اعلیٰ کی طرف قرآن کی سورہ نمبر 66 میں بتایا گیا ہے کہ قدیم شاہ مصر کی مومن بیوی آسیہ کے لیے جب بادشاہ نے موت کا حکم صادر کیا تو اس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی : ربِّ ابن لی عندک بیتاً فی الجنة (التحریم 11) یعنی اے میرے رب، تو میرے لیے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنادے۔ یہ عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی ایک دعا ہے۔ یہی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آخر وقت میں پیغمبرانہ انداز میں اس طرح نکلی: اللّٰھم الرفیق الأعلیٰ۔ (اے اللہ، رفیقِ اعلیٰ)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader