Urdu book · آخرت کا سفر

رفیق اعلیٰ کی طرف

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دونوں دعائیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہم معنیٰ ہیں۔ پہلی دعا عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی دعا ہے، اور دوسری دعا پیغمبرانہ سطح پر ایک نبی کی زبان سے نکلی ہوئی دعا۔ یہ دونوں دعائیں دراصل موت کی نسبت سے مومنانہ جذبات کا اظہار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر جب موت کا لمحہ آئے تو اس کا احساس مذکورہ قسم کی دعا میں ڈھل جائے۔ اس وقت مومن کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ جب اہل دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خداوند ذوالجلال کی قربت حاصل ہوجائے۔ مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب ہوجائے۔ جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کردے تو میں اکیلا نہ ہوجاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا کی معیت کی نعمت حاصل ہوجائے، میرا سفرِ موت میرے لیے رفاقتِ ادنیٰ سے رفاقتِ اعلیٰ کی طرف سفر بن جائے۔ مذکورہ دعا کی حیثیت محض دعائیہ الفاظ کی نہیں ہے، وہ سچے مومن کی داخلی تڑپ کا لفظی اظہار ہے۔ ایک سچے مومن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page