آخری بات
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ امت محمدیہ کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کے لئے اٹھے۔ وہ کسی بھی حال میں اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ ذاتی عبادت بھی ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ مقدار میں ہو اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہیں بنے گی۔ اگر وہ اس کام کو انجام نہ دے اور دنیا کی قوموں کو آنے والے دن سے نہ ڈرائے تو وہ بھی آخرت میں دوسری قوموں کے ساتھ پکڑی جائے گی۔ دوسری قوموں کا جرم اگر یہ ہوگا کہ انہوں نے قرآنی زندگی اختیار نہیں کی تو وہ اس بات کی مجرم قرار پائے گی کہ اس نے خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی سے آگاہ نہیں کیا۔ اور دوسرا جرم ،کسی بھی حال میں ، پہلے جرم سے کم نہیں ہے ۔ یہود جس جرم میں مغضوب و منسوب ہوئے ، وہ یہی تھا کہ ان کے پاس خدا کی جو الہامی امانت تھی ، اس کو انہوں نے چھپایا اور لوگوں کو اس سے خبردار نہیں کیا۔ تورات کے حاملین نے جو غلطی کی ، وہی غلطی اگر قرآن کے حاملین کریں تو ان کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ نہیں ہوگا۔ خدا کا قانون ان کو بھی اسی طرح اپنی لپیٹ میں لے لے گا جس طرح دہ پچھلی قوموں کو لے چکا ہے۔ خدا کی کسی قوم کے ساتھ ، خصوصی رشتہ داری نہیں ہے۔ اس سے بڑی کوئی بھول نہیں ہو سکتی کہ کوئی گروہ اپنے کو خدا کا خصوصی رشتہ دار سمجھ لے۔ مسلمانوں کو آج اہل عالم کے سامنے یہی فریضہ دعوت انجام دینا ہے جو رسول نے اپنے زمانہ میں لوگوں کے اوپر انجام دیا تھا۔ یعنی قرآن کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا۔ جس طرح زکوۃ کی ادائگی کے بغیر سارا مال ایک مسلمان کے لئے حرام رہتا ہے ، اسی طرح اس فریضہ کو انجام دینے سے پہلے ہمارے لئے جائز نہیں ہے کہ ہماری زندگی میں کسی اور چیز کا حصہ ہو۔ ہمارے لئے کوئی خوشی اس وقت تک خوشی نہیں ہے اور کوئی عافیت اس وقت تک عافیت نہیں ہے جب تک ہم پیغام رسانی کے اس کام کو انجام نہ دے لیں یا کم از کم اس میں اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہوں: ہمیں قرآن کا ترجمہ بہترین اہتمام کے ساتھ، دنیا کی تمام زبانوں میں فراہم کرنا ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں پر جدید اسلوب میں کتابیں تیار کر کے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانا ہے۔ پیغمبر کے اقوال (حدیث) کے ترجمے دنیا کی تمام زبانوں میں تیار کرنا ہے۔ اسلام کی تاریخ (نہ کہ فتوحات کی تاریخ) کو مرتب کر کے شائع کرنا ہے۔ جدید زبان اور عصری اسلوب میں اسلام کو مدلل کرنا ہے۔ وہ تمام عملی تدبیریں اختیار کرنا اور معاون ادارے قائم کرنا ہے جو کسی دعوت کو مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہیں۔ پھر یہ کام سادہ معنوں میں محض تقریر و تحریر کا کام نہیں ہے ۔ بلکہ خدا کی نمائندگی کا کام ہے، اس کو اسی اہتمام کے ساتھ کرنا ہے جس کا وہ متقاضی ہے۔ اس کے لئے ہم کو اسی قدر سنجیدہ بننا ہے جتنا ایک اہم سرکاری پیغام کو پہنچانے والا سنجیدہ ہوتا ہے۔ خیر خواہی اور دل نگاری کے ان تمام تقاضوں کو اس میں شامل کرنا ہے جو اس قسم کی سنگین خبر کے ایک حامل سے متوقع ہے۔ پھر یہ بھی لازمی ہے کہ جس جہنم سے آپ، دوسروں کو ڈرا نے جا رہے ہیں خود اس سے کانپتے ہوں، جس جنت کی خوش خبری دوسروں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader