Urdu book · اسلام

آخری بات

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

دے رہے ہیں، خود اس کے حریص ہوں۔ اگر یہ باتیں نہ ہوں تو آپ کی دعوت تبلیغ ایک قسم کا مسخرہ بن ہوگا۔ کوئی بھی شخص اس کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ اس پر غور کرے۔ ہماری جدید تاریخ کا ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ پچھلے تقریبا دو سو برس کے عرصے میں سارے عالم اسلام میں بے شمار بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ ان کو کام کرنے کے بے پناہ مواقع ملے۔ مگر ان کی کوششوں کے حقیقی نتائج صفر کی حد تک کم تھے۔ یہ ناکامی انھیں اس کے باوجود ہوئی کہ ان کو اپنے پروگرام کو بروئے کار لانے کے لیے ہر قسم کے بہترین وسائل ملے۔ علم، تقدس، اخلاص، شخصیت، قربانی، تعداد، سرمایہ، غرض وسائل و ذرائع کی کوئی ایسی قسم نہیں جو وافر مقدار میں ان کو حاصل نہ ہوئی ہو۔ مگر ان کی طوفان خیز کوششوں کے نتائج کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف ملت کے قافلے کو پیچھے لے جانے کا کام انجام دیا ہے۔ جو لوگ خدا کے قائل نہ ہوں، یا اس کو زندہ اور فعال نہ مانتے ہوں وہ اس واقعہ کی کوئی بھی خود ساختہ توجیہہ کر سکتے ہیں۔ مگر خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ اس پورے واقعہ کو ہم سنت اللہ کے تحت سمجھیں اور اس کو براہ راست خدائی معاملہ قرار دیں۔ اس حیثیت سے غور کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کو رہنما بنایا جائے تو بلا کسی اشتباہ کے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری تحریکوں کی ناکامی کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے وہ اصل کام نہ کیا جس پر خدا نے امت مسلمہ کے لیے نصرت اجتماعی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالی نے ہماری نصرت کا وعدہ اس شرط پر کیا ہے کہ ہم اُس کی نصرت کریں یعنی بندوں کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کرنے کے لیے خدائی مشن میں شریک ہوں۔ ہماری مہم دنیوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبہ کی مہم نہ ہو بلکہ انذار آخرت کی مہم ہو۔ ہم دوسروں کے مقابلہ میں دعوتی تحریک اٹھائیں، نہ کہ سیاسی اور اقتصادی تحریک۔ یہی وہ اصل بات ہے جس نے موجودہ زمانے میں ہماری تمام کوششوں کو حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ کا مصداق بنا دیا ہے۔ ہم نے دنیوی سیاست کے لیے تحریکیں اٹھائیں، اس لیے آسمانی نصرت ہم کو حاصل نہ ہوسکی۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو بربادیوں سے بچائیں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اقوام عالم کے سامنے دائیں بن کر کھڑے ہوں سیاسی اور معاشی جھگڑے ترک کرکے جنت اور جہنم کو اصل مسئلہ بنائیں اور اس سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ خدا کی نصرت کو کھینچنے کی واحد صورت یہی ہے، اور جب تک خدا کی نصرت حاصل نہ ہو، ہم کو کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ اہل اسلام کی سربلندی، قرآن کی صراحت کے مطابق ایک خدائی انعام ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ انعام کسی خاص عمل کے صلہ میں دیا جاتا ہے۔ بہر حال اسلام کا وہ کون سا عمل ہے جو ان کو اس انعام کا مستحق بناتا ہے۔ وہ رہی ہے جو خود امت مسلمہ کی بعثت کا مقصد ہے۔ یعنی اہل عالم کے سامنے دین کی گواہی دینا۔ لوگوں کو خدا کی مرضی سے باخبر کرنا تاکہ آخرت میں کوئی خدا کے اوپر حجت قائم نہ کرسکے۔ یہی وہ عمل ہے جو اہل اسلام کے لیے خدا وندی انعام کا استحقاق پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اس مطلوب کا مک نہ کریں تو دوسرا کوئی بھی ہنگامہ ہم کو انعام کا مستحق نہیں بنا سکتا۔ دوسرے ہنگامے تو سزا مستحق بناتے ہیں نہ کہ انعام کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page