ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
پر انسان کو اس حقیقت سے باخبر کر دیں: واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح در اور جب ہم نے تمام پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تم سے ابراهِيم وموملى وعيسى بن مريم واخذنا اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے، اور ہم منهم ميثاقا غليظا- ليسئل الصادقين عن صدقهم نے ان سے خوب پختہ عہد لیا، تاکہ سچوں سے ان کے سچ کے واعد للكافرين عذابا اليما (احزاب ۸ - ۷) بارے میں پوچھے، اور منکرین کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ دعائے ابراہیمی (بقرہ - ۱۲۹) کے نتیجہ میں پیغمبر آخرالزمان کی بعثت اسی غرض سے ہوئی۔ آپ کو عربی قرآن دیا گیا اور آپ کی ذمہ داری یہ قرار پائی کہ آپ مکہ اور عرب کے دوسرے باشندوں کو حقیقت حال سے آگاہ کردیں: دكذالك اوحينا اليك قرآنا عربيا لتنذر ام اور ہم نے اسی طرح عربی قرآن تمھارے اوپر نازل کیا ، القرى ومن حولها لتنذر يوم الجمع لا ريب تاکہ تم مکہ والوں اور اس پاس کے لوگوں کو ڈرا دو اور فیه، فريق في الجنة وفريق في السعير انھیں جمع ہونے کے دن سے ہوشیار کر دو، جس کے شوریٰ ۸-۷ آنے میں شک نہیں۔ اس دن ایک گروہ جنت میں داخل ہو گا اور ایک دوزخ میں۔ اہل عرب کو براہ راست ان کی اپنی زبان میں قرآن دیا گیا اور بقیہ قومیں جو ایمان لاکر ان سے ” ملتی“ ہوتی گئیں ، بالتبع ان کے ساتھ شریک ہوتی گئیں : هو الذي بعث في الاميين رسولا منهم يتلوا وہی ہے جس نے عرب کے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة، سے ایک پیغمبر بھیجا جو ان کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا وان كانوا من قبل لفي ضلال مبين۔ وآخرين ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت منهم لما يلحقوا بهم وهو العزيز الحكيم۔ ذلک کی باتیں سکھاتا ہے۔ یہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی فضل الله يوتيه من يشاء، والله ذو الفضل میں تھے اور ان دوسروں کے لئے بھی جو ابھی ان میں العظيم جمعہ ۴-۳ شامل نہیں ہوئے اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم نے جو دعا کی تھی اس کا ایک حصہ یہ تھا : فاجعل افئدة من الناس تهوى اليهم (ابراہیم - ۳۷) یعنی تو اس جگہ کو خدا پرستوں کا مرکز بنا دے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کے زمانہ ہی میں مشیت الہی نے یہ طے کر دیا تھا کہ مکہ ملت اسلامی کا بین الاقوامی اجتماع گاہ اور دعوت اسلام کا عالمی مرکز ہو گا ۔ واذن في الناس بالحج (حج - ۲۷) کی تفسیر کے تحت ابن کثیر نے لکھا ہے کہ جب مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر ہو گئی تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader