Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ سب حضرت ابراہیمؑ کی دعوتی زندگی کے تاریخی مراحل ہیں جن کو ہم تربیتی طور پر دہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے مسلمانوں پر فرض کر دیا کہ وہ ان واقعات کو دہرا کر عہدِ دعوت کی تجدید کریں: وفديناه بذبح عظيم وتركنا عليه في الآخرين (صافات - ۸ - ۱۰۷) اور اس کے عوض میں دی ہم نے ایک بڑی قربانی اور باقی رکھا ہم نے اس کو پیچھے آنے والوں میں ۔ قرآن بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم جب ہر قسم کے امتحان میں پورے اترے اور ہر حال میں دعوت حق کے مشن پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں وہ فیصلہ کر دیا جو علم الٰہی میں پہلے سے مقدر تھا : واذ ابتلى ابراهيم ربه بكلمات فاتمهن قال انى جاعلك للناس اماماً (بقره - ۱۲۴) جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں میں آزمایا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا۔ خدا نے کہا میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ امامت سے مراد کوئی سیاسی اقتدار نہیں تھا۔ بلکہ آپ کو اس منصب پر فائز کرنا تھا کہ آپ کے ذریعہ خدا کا پیغام ہدایت اس کے بندوں تک پہنچے۔ قرآن میں ایک جگہ ابراہیم، لوط، اسحٰق، یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کر کے ارشاد ہوا ہے: وجعلناهم ائمة يهدون بامرنا واوحينا اليهم فعل الخيرات انبياء ۷۳-۷ اور ہم نے ان کو امام بنایا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھاتے تھے اور ہم نے ان کو نیک کام کرنے کی وحی بھیجی۔ ان کو ہم نے امام بنایا۔ وہ ہمارے حکم سے لوگوں کو راہ بتاتے تھے اور ہم نے ان کو نیکی کے کاموں کا حکم دیا۔ یہ امامت جس کا دوسرا نام پیغمبری ہے ، حضرت ابراہیم کے بعد آپ کی نسل میں مسلسل جاری رہی۔ ابتداءً آپ کے بیٹے اسحاق کی نسل میں پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو خدا کی مرضی سے باخبر کرتے رہے۔ اس سلسلے کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ تھے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسمعیل کے خاندان میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۵۷۰ - ۶۳۲) کی بعثت ہوئی۔ آپ کے بعد پیغمبر بھیجنے کا سلسلہ ختم کر دیا گیا اور دین کو محفوظ اور مکمل کر کے اس کو امت محمدی کے سپرد کر دیا گیا اور امت محمدی کی یہ ذمہ داری قرار پائی کہ وہ قیامت تک خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی سے آگاہ کرتی رہے ( حج - آخر) حضرت ابراہیم کو جو صحیفے دیئے گئے ، ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ تھا : ام لم ينبأ بما في صحف موسىٰ - وابراهيم الذى وفىٰ - ان لا تزر وازرة وزر أخرىٰ - وان ليس للانسان الا ما سعىٰ - وان سعيه سوف يرىٰ - ثم يجزاه الجزاء الاوفىٰ وان الى ربك المنتهىٰ (نجم - ۴۲ - ۳۶) کیا اس کو خبر نہیں جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم کے صحیفوں میں، جس نے احکام کی پوری بجا آوری کی۔ وہ یہ کہ کوئی شخص کسی کا بوجھ اپنے اوپر نہیں لے سکتا اور یہ کہ انسان کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا اور یہ کہ انسان کی سعی دیکھی جائے گی، پھر اس کو پورا بدلہ دیا جائے گا اور یہ کہ سب کو تیرے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہی انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس لئے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ ہر قیمت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page