ارکانِ اربعہ
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مرکزی معاشیَات کے لئے حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ”اے میرے رب! اس شہر کو امن والا شہر بنا اور اس کے باشندوں کو ثمرات (زمینی پیداوار) کا رزق عطا فرما۔ (بقرہ۔ ۱۲۶) اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔ ساڑھے چار ہزار برس سے یہ شہر مقامی طور پر ”غیرذی زرع“ ہونے کے باوجود ہر قسم کی خوش حالی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ موجودہ زمانے میں عرب تیل کی دولت نے ثابت کیا ہے کہ اس دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں، مالک کائنات نے یہ اہتمام بھی کر دیا تھا کہ صنعتی دور (Industrial age) میں بھی یہ علاقہ اپنی ’’زمینی پیداوار‘‘ سے اتنی کثیر دولت حاصل کرے جو نہ صرف اس کی اپنی ضروریات کو فراغت پورا کرنے کی ضامن ہو بلکہ دعوقی ذمہ داری کو بھی اعلیٰ ترین سطح پر انجام دے سکے۔ ارضیات کے ماہرین اس کو جغرافی اتفاق (Accident of geography) قرار دیتے ہیں کہ دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً تہائی حصہ اسی زمین کے نیچے جمع ہوگیا جس کو جدید اصطلاح میں شرق اوسط کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ اس دعائے ابراہیمی کا نتیجہ ہے جس میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ خدایا! یہاں کے باشندوں کو زمینی پیداوار، بالفاظ دیگر ان کے قدموں کے نیچے ان کا رزق عطا فرما تا کہ وہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں اور تیری عائد کردہ ذمہ داریوں کو ہر دور میں حسن وخوبی ادا کرنے کے وسائل پا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم کو امامت سپرد کی اور آپ کے بنائے ہوئے ’’بیت‘‘، کو ھدی للعالین (راہ نمائندہ مرعالمیان را) اور مثابۃ للناس (مرجع مردمان، شاہ ولی اللہ) قرار دیا تو ان کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ دنیا بھر میں جو خدا کے وفادار بندے ہیں وہ اس مرکز میں آئیں، اپنے امام سے ملیں، اپنے دینی و دنیوی منافع کے لئے یہاں حاضر ہوں۔ ليشہد وا منافع لھم، (حج۔ ۲۸) اور اسی کے ساتھ اپنے خدا کی عبادت کریں۔ سال میں ایک بار تمام دنیا کے نیکو کار بندے خدا کے مرکزی گھر میں آکر اپنے دینی فرائض و مسائل پر غور کریں۔ اپنے امام کے احکام کو سنیں اور سنت ابراہیمی کی تجدید کے لئے تیار ہو کر اپنے وطن کو واپس جائیں۔ حج میں جو عبادتیں کی جاتی ہیں، وہ ذریعہ ہیں خدا کے قرب اور اس کی نصرت کے حصول کا۔ حج کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان یکجا ہو کر اپنے منافع دینی کی دیکھ بھال کریں اور اپنے عہد کا محاسبہ کرکے از سر نو اس پر سرگرم عمل ہونے کے لئے تیار ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ملت ابراہیمی کو زندہ اور قائم کرنے آئے تھے آپ نے نہ صرف حج کے مراسم میں بگاڑ کو درست کیا بلکہ اس کو دینی مرکزی بنایا۔ آپ حج کے موقع پر یہاں امر حق کا اعلان کرتے (خطبہ حجة الوداع) دینی فرائض و احکام کو بیان کرتے، ملی معاہدوں کو قبول اور نسخ کرنے کا اعلان بھی اسی حج کے دن ہوتا۔ اپنی امت کے لئے آخری گواہی بھی آپ نے حج کے موقع پر لی جب کہ اپنے خطبہ کے بعد آپ نے فرمایا الاھل بلغت، لوگوں نے کہا، یلی یا رسول اللہ۔ منکرین حق کو آخری الٹی میٹم دینا ہوا تو اس کے لئے بھی اسی حج کے دن کو منتخب کیا گیا: واذان من الله ورسوله الى الناس يوم الحج الاكبر اور اعلان کر دینا بڑے حج کے دن خدا اور رسول کی تو بہ ۔ ۳ طرف سے . . . .

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader