Urdu book · اسلام

ارکانِ اربعہ

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

آیت کے نزول کے وقت امام وقت (پیغمبر) مدینہ میں تھا مگر برات کا اعلان مکہ میں حج کے دن کیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکہ اسلامی تحریک کا دائمی مرکز ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے : ان الدین لیارز الی الحجاز کما تازد الحیۃ الی حجرھا دین حجاز کی طرف سمٹے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی مشکوٰۃ - باب الاعتصام بالکتاب والسنة طرف واپس آتا ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے مقام فضیلت (بقره - ۴۷) پر فائز کیا تھا۔ یہ وہی چیز ہے جس کے لئے امت محمدی کے سلسلے میں خیر امت (آل عمران - ۱۱۰) کے الفاظ آئے ہیں۔ بنی اسمعیل (امت محمدی) سے پہلے بنی اسرائیل کو اس مقصد کے لئے چنا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو امر حق سے آگاہ کریں : ’’بنی اسرائیل کا واحد فریضہ دنیا میں خدا کا گواہ بننا تھا‘‘، (جیوش انسائیکلو پیڈیا، جلد ۶، صفحہ ۴) ’’بنی اسرائیل پر خاص فرض عائد ہوا تھا کہ توحید باری کی دعوت دیتے رہیں اور آفتاب پرستی، ماہتاب پرستی کو اکب پرستی کے خلاف جہاد کرتے رہیں‘‘، (صفحہ ۵) جب بنی اسرائیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تو اسی کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام (۱۴۰۰۔ ۱۵۲۰ ق م) کے زمانہ میں ان کی معاشیات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصی انتظام فرمایا۔ یہ من و سلوئی تھا جو نہایت آسانی سے بغیر محنت انہیں اپنی قیام گاہوں پر مل جاتا تھا۔ انہیں حکم تھا کہ اس خدائی انتظام سے اپنی معاشیات لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ خدائی مشن کے لئے مصروف ہوں۔ مگر وہ اس مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھیں کام و دہن کی لذتیں اور شہری زندگی کی آسائشیں یاد آنے لگیں۔ وہ حالت خیر کے مقابلہ میں حالت ادنیٰ کو ترجیح دینے لگے۔ بالآخر انھیں مقام فضیلت سے معزول کر دیا گیا۔ کیوں کہ یہ خدا کی نظر میں اللہ کی نشانیوں سے انکار کے ہم معنی تھا : اذا قلتم لیموسی لن نصبر علی طعام واحد فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا و اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک کھانے پر نہیں رہ سکتے قتھا و دھا فمہا و عدسھا و بصلھا ، قال اس اپنے رب سے کہو کہ وہ ہمارے لئے نکال دے جو زمین اتستبدلون الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر، سے اگتا ہے ۔ ساگ، لگڑی، گیہوں، مسور، پیاز ۔ اھبطوا مصرا فان لكم ما سالتم، و ضربت موسیٰ نے کہا کیا تم چاہتے ہو ایک چیز جو ادنیٰ ہے بدلے ایک علیہم الذلۃ والمسكنة وباء و بغضب من اللہ چیز کے جو بہتر ہے۔ اترو کسی شہر میں وہاں تم کو ملے گا جو ذلک بانھم كانوا يكفرون بآیات الله تم مانگتے ہو اور ڈال دی گئی ان پر ذلت اور محتاجی اور وہ مستحق ہو گئے غضب الہیٰ کے۔ یہ اس لئے ہوا کہ وہ بقره - ۶۱ انکار کرتے تھے اللہ کی نشانیوں کا۔ عرب دنیا کو تیل کی جو دولت ملی ہے، اس کی حیثیت ٹھیک وہی ہے جو بنی اسرائیل کے من و سلویٰ کی تھی ۔ من و سلویٰ در خدا کے دین کی گواہی ‘‘ دینے کی قیمت تھی، اسی طرح تیل کی دولت اس لئے ہے کہ عالمی سطح پر اور اعلیٰ ترین معیار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page