اسلام
Urdu book, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم جنوبی افریقہ کے ناول نگار اولیو شرئیر (۱۹۲۰-۱۸۵۵) کی ایک کتاب ہے: ایک افریقی فارم کی کہانی Story of an African Farm اس میں ایک اجنبی مسافر ایک کسان لڑکے کو ایک شکاری کا قصہ بیان کرتا ہے۔ اس شکاری کو سچائی کی خوبصورت سفید چڑیا کی تلاش تھی جس کی ایک جھلک اس نے ایک جھیل کے کنارے دیکھی تھی۔ اس نے خوش اعتقادی کے پھندے اور تصورات کے پنجرے میں چڑیا کو پکڑنا چاہا۔ مگر اسے معلوم ہوا کہ سچائی کو سچائی ہی کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے توہمات کی نادی کو چھوڑ دیا اور سچائی کے پہاڑ پر چڑھنا شروع کر دیا۔ وہ چڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک اونچی کھڑی ہوئی چٹان کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے اس چٹان کو کاٹ کاٹ کر سیڑھیاں بنانی شروع کیں۔ سالہا سال تک وہ سیڑھیاں بناتا رہا اور اوپر چڑھتا رہا، یہاں تک کہ بوڑھا ہوتے ہوتے وہ اس کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ مگر اب اسے معلوم ہوا کہ اس کے آگے ایک اور چٹان ہے جو اس سے بھی زیادہ اونچی ہے ۔ مگر اب اس کی عمر ختم ہو جاتی ہے اور وہ وہیں مر جاتا ہے۔ تاہم مرتے وقت اوپر سے ایک سفید پر آکر اس کے پاس گرا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ مطلوب چڑیا اس اگلی چٹان پر ہے۔ اگرچہ وہ خود سچائی کی چڑیا تک نہیں پہنچ پاتا۔ مگر وہ اس اطمینان کے ساتھ جان دے دیتا ہے کہ میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔ وہ پر کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور یہ کہتے ہوئے مر جاتا ہے: Where I lie down, worn out, other men will stand, young and fresh. By the steps that I have cut they will climb. They will never know the name of the man who made them ... But they will mount and on my work. They will climb and by my stair. They will find truth and through me. Olive Schreiner, Story of an African Farm جہاں آج میں بوڑھا اور کمزور ہو کر گر پڑا ہوں، دوسرے لوگ یہاں سے کھڑے ہوں گے۔ نوجوان اور تازہ دم۔ جو سیڑھیاں میں نے کاٹی ہیں، وہ اس سے پڑھیں گے۔ وہ کبھی نہ جانیں گے کہ سیڑھیاں بنانے والے کا نام کیا تھا۔ مگر وہ ان سیڑھیوں پر چڑھتے رہیں گے اور بالآخر سچائی تک پہنچ جائیں گے۔ یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے، اس کے لئے غالباً اس سے زیادہ موزوں تمثیل اور کوئی نہیں ہو سکتی جو اوپر کے اقتباس میں نظر آتی ہے۔ زیر نظر کتاب کے مؤلف کی پیدائش کی (تخمینی) تاریخ یکم جنوری ۱۹۲۵ء ہے۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کا ۳۰ دسمبر ۱۹۲۹ء کو اس وقت انتقال ہو گیا جب کہ میری عمر صرف پانچ سال تھی۔ اس کے بعد میری پرورش اعظم گڑھ کے ایک روایتی مذہبی ماحول میں ہوئی۔ میرے حالات کا تقاضا تھا کہ میں ہر چیز کو تجسس کی نگاہ سے دیکھوں۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ دین جو " دور قدیم" میں ایک ہزار سال تک انسانی افکار پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader