Urdu book · اسلام

اسلام

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمران تھا دور جدید میں ہر لحاظ سے مغلوب ہو گیا ہے ، تو میرے اندر یہ جذبہ ابھرا کہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کروں ۔ میں نے باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا ۔ مجھ کو بہت سے لوگ یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میری باقاعدہ تعلیم تمام تر صرف عربی مدرسہ میں ہوئی ہے ۔ عربی مدرسہ سے فراغت کے بعد میں نے بطور خود انگریزی سیکھی ۔ بعد کے دور میں انگریزی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے طرز تحریر پر جدید اسلوب غالب آ گیا ۔ اس سے لوگوں کو شبہ ہونے لگا ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تعلیمی اصطلاح میں میں تمام تر ایک ” مولوی “ ہوں۔ میرے اس تعلیمی اور فکری پس منظر نے اسلام کا کم از کم روایتی علم مجھے دیا تھا ۔ مگر ظاہر ہے کہ دور جدید کی نسبت سے اسلام کو سمجھنے کے لئے وہ ناکافی تھا ۔ چنانچہ ۱۹۳۸ء میں میں نے ایک نیا فیصلہ کیا ۔ ایک طرف میں نے جدید افکار کو براہ راست ماخذ سے جاننے کی کوشش کی ۔ دوسری طرف اسلام کو از سر نو سمجھنے کے لئے قرآن وحدیث اور اس سے متعلق علوم کو پڑھنا شروع کیا ۔ میری زندگی کے ابتدائی ۲۵ سال اگر درسی تعلیم میں گزرے تھے ، تو اگلے ۲۵ سال اس تحقیقی مطالعہ میں صرف ہو گئے ۔ آج جب کہ میری عمر پچاس سال ہو چکی ہے ، میں اس کتاب کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں جو گو یا میری طویل تلاش کا جواب ہے ۔ میں شاید نظریاتی چٹان کی سیڑھیاں کاٹ چکا تھا کہ میرے سامنے دوسرا پہاڑ آ کر کھڑا ہو گیا ۔ اب ضرورت تھی کہ دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اسلام کی ہم کو عملی طور پر چلایا جائے ۔ مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری طاقت ختم ہو گئی ۔ ماضی کی شدید جدوجہد نے مجھے قبل از وقت بوڑھا بنا دیا۔ ”نظریاتی سیڑھیاں‘‘، کاٹنے میں میں نے اپنی عمر تمام کر دی ۔ اب ’’عملی سیڑھیاں‘‘، کس طرح کاٹوں ۔ تا ہم میرے اطمینان کے لئے یہ کافی ہے کہ میں نے سچائی کو کم از کم فکری طور پر دریافت کر لیا ہے ۔ اب شاید میں یہ کہتے ہوئے مر سکتا ہوں کہ ”میرے بعد آنے والے کو پچھلی سیڑھیاں نہیں بنانی پڑیں گی۔“ وحیدالدین ستمبر ۱۹۷۵ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page