Urdu book · اسلام

اسلام کا طریق دعوت

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

شاہراہ مقرر کر دی ہے۔ تم اسی پر چلو، ادھر ادھر کے راستوں پر مت چلو۔ ورنہ تم اصل خدائی شاہراہ سے بھٹک جاؤ گے۔ اس شاہراہ کو قرآن میں دین قیم (بینہ) حبل اللہ (آل عمران) سواء السبیل (مائدہ) اور صراط مستقیم (انعام) وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ انعام کے ۱۹ ویں رکوع میں چند بنیادی چیزوں کا حکم دینے کے بعد ارشاد ہوا ہے: وأن هذا صراطی مستقیماً فاتبعوه ولا تتبعوا السبیل کہہ دو کہ یہ ہے میرا سیدھا راستہ، سو تم اسی پر چلو اور فتفرق بكم عن سبيله ذالكم وصاكم به لعلكم دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ تم کو اصل راہ سے (انعام - ۱۵۳) جدا کر دیں گی۔ اللہ تم کو حکم دیتا ہے تاکہ تم متقی بنو۔ تقون اس آیت میں متفرق راستے (سبل) سے مراد کفر و شرک کے راستے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ راستے ہیں جو دین میں دین کے نام پر نکالے جاتے ہیں (قال مجاهد السبیل البدع، قرطبی)۔ اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے جو کچھ مطلوب ہے وہ واضح الفاظ میں قرآن میں بیان کر دیا گیا ہے۔ یہ قرآنی تعلیمات عملاً زندگی میں کس طرح متشکل ہوتی ہیں ، اس کا واضح نمونہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں میں موجود ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے اسی ثابت شدہ الدین پر قائم رہے۔ اس کے سوا دین میں ایسی باتیں نکالنا جو قرآن اور سنت سے بلا اختلاف ثابت نہ ہوں، ادھر ادھر کے راستوں پر بھٹکنا ہے جو آدمی کو اصل خدائی راستہ سے دور کر دیتا ہے۔ بطور خود آدمی سمجھتا ہے کہ وہ دین پر چل رہا ہے، حالانکہ اصل خدائی دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دین اور شریعت کا فرق الدین کیا ہے ۔ یہ توحید ہے۔ یعنی ایک ہستی کو خالق و مالک ماننا، اسی کو اپنی تمام تو جہات کا مرکز و محور بنانا، اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنا، اسی کے آگے اپنے آپ کو جھکا دینا۔ یہی دین کا اصل سراپا ہے۔ اس کا ہاتھ آنا تمام چیزوں کا ہاتھ آنا ہے۔ یہ اگر چھوٹ جائے تو کوئی بھی چیز آدمی کے حصہ میں باقی نہیں رہتی۔ خواہ ظاہر داری اور جدال کی سطح پر وہ اپنے آپ کو کتنا ہی دین دار ثابت کر رہا ہو۔ قرآن میں اقامت دین کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اسی دین سے متعلق ہے۔ سورہ شوریٰ کی اس آیت میں اقامت دین سے مراد در اصل اقامت توحید ہے۔ یعنی بندے کو حقیقی معنوں میں خدا سے جوڑنا۔ اس کو وحدہ لاشریک کا سچا پرستار بنانا۔ اگر کوئی گروہ عبادت کے جزئی اور اختلافی مسائل پر فقہی نزاع کھڑی کرے یا دین قائم کرنے کے نام پر حکراں جماعت سے سیاسی مقابلہ آرائی شروع کر دے تو یہ اقامت دین نہیں ہوگا بلکہ قرآن کے الفاظ میں سبل متفرقہ کا اتباع ہوگا جو دین میں قطعا ممنوع ہے۔ اس قسم کے ذیلی اور اختلافی امور پر معرکے کھڑے کرنا امت کی وحدت کو ختم کر دیتا ہے۔ امت فرقوں میں بٹ کر اللہ کی اجتماعی نصرت سے محروم ہو جاتی ہے۔ اقامت دین متفق علیہ مسئلہ کے لئے جد و جہد کرنے کا نام ہے نہ کہ مختلف فیہ مسائل کو لے کر مسلمانوں میں جدال و نزاع بر پا کرنے کا۔ الدین سے مراد اصلاً اگرچہ توحید ہے۔ تاہم تبعاً اس میں وہ تمام مسائل شامل ہوتے چلے جائیں گے جو قرآن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page