اسلام کا طریق دعوت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا طریق دعوت قرآن میں ارشاد ہوا ہے : شرع لكم من الدين ما وصى به نوحا والذی اوحينا اللہ نے تمھارے لئے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے اليك وما وصينا به ابراهيم وموسى وعيسى ان نوح کو حکم دیا تھا۔ اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی ہے اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه كبر على المشركين اور جس کا حکم ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا تھا۔ یہ کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو۔ مشرکوں پر وہ بات ( شوریٰ - ۱۳ ) ما تدعوهم اليه بہت گراں ہے جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو اقامت دین کی اس آیت کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ ”دین کو قائم کرو، باطل کو مت قائم کرو“ بلکہ یہ فرمایا گیا ہے ” دین کو قائم کرو ، دین میں متفرق نہ ہو“، جس حالت کو اختیار کرنے کا حکم ہے اور جس حالت سے منع فرمایا گیا ہے دونوں، آیت کے الفاظ کے مطابق، خود دین سے متعلق حالتیں ہیں ۔ اور ان دونوں حالتوں میں سے ایک دینی حالت کو چھوڑنے اور دوسری دینی حالت کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں جو حکم ہے وہ اقامتِ باطل کے مقابلہ میں اقامتِ دین کا نہیں ہے بلکہ تفریق فی الدین کے مقابلہ میں اقامتِ دین کا ہے ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت میں دین سے مراد صرف اساسی دین ہے۔ کیوں کہ اساسی دین تمام انبیاء کے درمیان یکساں تھا اور اسی میں سب کی مشترک پیروی کی جاسکتی ہے۔ تفصیلی شریعت قرآن کی تصریح (لکل جعلنا منكم شرعة و منهاجا) کے مطابق ان کے درمیان مختلف تھی۔ اس لئے تفصیلی شریعت میں بیک وقت سارے نبیوں کی پیروی ممکن نہیں۔ تفصیلی شریعت میں نبیوں کے درمیان جو فرق تھا وہ کسی ارتقائی تشریع کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ حالات اور دعوتی مراحل میں فرق کی بنا پر تھا۔ یہ فرق مختلف مسلم گروہوں کے درمیان آج بھی ہے اور ہمیشہ پایا جاتا رہے گا۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو دائمی طور پر یکساں حالت میں مطلوب ہے۔ دوسرا وہ جو حالات کے تابع ہوتا ہے۔ پہلا حصہ اساسی تعلیم سے متعلق ہے اور اس کو قرآن میں الدّین (شوری) کہا گیا ہے۔ دوسرا حصہ شرعۃً اور منھاج (مائدہ ۴۸) کا ہے۔ یعنی فرعی قوانین اور طریق کار۔ پہلے حصہء دین کو قرآن میں سبیل (راستہ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسرے حصہ دین کو سُبُل (راستے) کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلا حصہ ہمیشہ ایک رہتا ہے، وہ ہر زمانہ کے لئے واحد شاہ راہ ہے۔ اس کے برعکس دوسرے حصہ دین کا تعلق حالات سے ہے اور اس میں ایک سے زیادہ صورتوں کی گنجائش رہتی ہے۔ حکم یہ ہے کہ دعوتِ را قامتِ کا موضوع الدین کو بناؤ، سُبُل متفرقہ کو مت بناؤ۔ متفق علیہ دین کو قائم کرنے میں لگو، مختلف فیہ دین کے پیچھے پڑ کر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جاؤ۔ قرآن میں مختلف مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ نے تمھارے لئے عمل کی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader