اسلام کا طریق دعوت
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انھوں نے اختیار نہیں کیا۔ اسی طرح سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف مسلم وزارت بنتی ہے، دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی سوال نہیں۔ کشمیر کو یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔ اگرچہ معروف معنوں میں انھوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا اور نہ کوئی ان کو ’’سیاسی لیڈر‘‘ کی حیثیت سے جانتا ہے ــــــــ امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سرا پکڑ لیا۔ اس کے بعد سب چیزیں خود بخود ان کی طرف چلی گئیں۔ خلاصہ دین میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی شرک سے مکمل طور پر بچے اور صرف خدائے واحد کو اپنا مرکز توجہ بنائے ۔ اسی سے پوری زندگی سدھرتی ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اسی کی سب سے زیادہ تاکید کریں اور اسی کو دعوت و تبلیغ کی بنیاد بنائیں۔ اس کے بعد تفصیلی معاملات میں دین کے جو تقاضے مطلوب ہیں ان میں حالات کے مطابق کوئی نہ کوئی طریقہ اختیار کرنا ضرور ی ہے۔ تاہم ان چیزوں کو دعوتی مہم کے طور پر اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری نوعیت کے کسی مسئلہ کو جب آدمی مدار دعوت بناتا ہے تو گو یا وہ ایک فرعی مسئلہ کو اساسی مسئلہ کے مقام پر رکھتا ہے۔ اس قسم کا کوئی عمل دین کے نظام کو درہم برہم کر دینے والا ہے۔ آپ ایک خاص فقہی مسلک کو اپنے لئے پسند کرتے ہیں تو کیجئے ۔ مگر اس کی بنیاد پر مسجد اور مدرسہ نہ بنائیے ۔ آپ ایک طریقہ کے تقدس کے قائل ہیں تو قائل رہیئے ۔ مگر اس کو دوسروں کی اسلامیت نا پنے کا پیمانہ مت قرار دیجئے۔ کسی مسلم حکمران نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا نظام قائم کر رکھا ہے اور آپ اس کے مقابلہ میں ’’عوامی جمہوریت‘‘ کو صحیح سمجھتے ہیں تو ناصحانہ انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچائیے۔ مگر اس مسئلہ کو لے کر ملک کو سیاسی اکھاڑامت بنائیے۔ اگر آپ کو نظر آتا ہے آپ کی ملت کے معاشی اور سماجی حقوق ’’پامال‘‘ ہورہے ہیں تو لوگوں میں یہ جذبہ ابھاریئے کہ وہ قوت و امانت (قصص ۲۷) کے ذریعہ اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کی کوشش کریں۔ مگر اس کو لے کر مفروضہ ظالموں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کا طوفان برپانہ کیجئے ــــــــ اس قسم کی ہر تحریک دین کے سبیل واحد کو چھوڑ کر سُبُل منفرقہ پر دوڑنا ہے ایسی کوششیں خواہ وہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ کی جائیں، عملاً صرف فساد بر پا کرتی ہیں۔ وہ نہ صرف آدمی کو حقیقی خدا پرستی سے دور کردیتی ہیں، بلکہ امت کو مختلف ٹولیوں اور جماعتوں میں تقسیم کر دینے کا باعث بنتی ہیں۔ اور امت کا تقسیم ہونا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ کی اجتماعی نصرتیں اٹھالی جاتی ہیں اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آتیں جب تک امت اپنی تفریقات کو ختم کر کے دوبارہ امت واحدہ نہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader