Urdu book · اسلام

سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

سیرت: ایک تحریک کی حیثیت سے پیغمبر اسلام کی جو سیرتیں لکھی گئی ہیں ، ان کا اندازِ عام طور پر یہ ہوتا ہے گویا آمنہ کے پیٹ سے ایک پُرعجزہ شخصیت نکلی اور اس نے پر اسرار طریقوں سے پورے عرب کو مسخر کر ڈالا۔ سیرت کی کتابیں انسانی تاریخ سے زیادہ کرامات و معجزات کی ایک طلسماتی داستان نظر آتی ہیں۔ یہ ذوق اتنا بڑھا کہ جن واقعات میں کوئی معجزاتی پہلو نہ تھا وہاں بھی لوگوں نے اپنے قوت تخیل سے کوئی نہ کوئی چیز ڈھونڈ نکالی۔ مثال کے طور پر صہیب بن سنان کی ہجرت کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ مکہ سے روانہ ہوئے تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے انھیں آگے بڑھ کر روکا۔ صہیب نے کہا ، اگر میں تمھیں اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھے جانے دو گے ۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ چنانچہ چند اوقیہ سونا جو صہیب کے پاس تھا ، وہ سب انھوں نے ان کو دے دیا اور مدینہ پہنچ گئے ۔ بیہقی کی ایک روایت میں ان کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے : فلما ر آنی قال : یا ابا یحییٰ ربح البیع نقلت یا حضرت صہیب کہتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مدینہ رسول اللہ ما سبقنی الیك احد وما اخبرك میں دیکھا تو فرمایا : اے ابو یحییٰ تمھاری یہ تجارت بڑی نفع بخش الا جبرائیل علیہ السلام رہی ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! مجھ سے پہلے آپ تک مکہ سے کوئی نہیں آیا ، یہ خبر یقیناً آپ کو جبریل فرشتہ نے دی ہے۔ مگر یہی واقعہ ابن مردویہ اور ابن سعد نے نقل کیا ہے تو اس کے الفاظ یہ ہیں : فخرج حتى قد مت المدينة، فبلغ ذلك میں قریش کے لوگوں کو اپنا مال دے کر مکہ سے روانہ ہوا۔ النبي صلى الله عليه وسلم فقال ربح صهيب یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گیا۔ اس کی اطلاع نبی صلی اللہ علیہ ربح صهيب وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: صہیب کی تجارت نفع بخش رہی، صہیب کی تجارت نفع بخش رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی ایک سادہ انسانی واقعہ ہے اور اسی لئے وہ ہمارے لئے نمونہ ہے۔ آپ کو راستہ چلتے ہوئے اسی طرح ٹھوکر لگی جس طرح عام انسان کو لگتی ہے (بخاری) آپ کے مخاطبین اولین کو آپ کا صاحب الہام ہونا اس لئے ناقابل فہم نظر آیا کہ آپ انھیں بظاہر اپنے ہی جیسے ایک انسان نظر آتے تھے : فانك تقوم بالاسواق وتلتمس المعاش كما آپ بازار میں خرید و فروخت کرتے ہیں اور اسی طرح نلتمسه (البدایہ والنہایہ) تلاش معاش کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی زندگی کی عظمت اس کے انسانی واقعہ ہونے میں ہے نہ کہ پر اسرار معجزاتی داستان ہونے میں ۔ آپ کی کامیابی نصرت الہی کے تحت ہوئی ، اس لحاظ سے بلاشبہ وہ معجزہ تھی ۔ مگر اس معجزہ الہی کا ظہور بشر رسول“ کی سطح پر ہوا نہ کہ کراماتى شخصیت کی سطح پر۔ قرآن میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر دی گئی ہے، اس کو سامنے رکھا جائے تو آپ کی یہی تصویر اس کے مطابق نظر آئے گی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page