Urdu book · الربَّانِيَّةُ

حکمتِ دین

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

دشمن سے سبق لینا ہجرت کے پانچویں سال وہ واقعہ پیش آیا جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ خندق کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر قریش اور غطفان کے دس ہزار مسلح لوگ مدینے کی سرحد پر پہونچ گئے۔ یہ بے حد نازک موقع تھا۔ مسلمانوں میں اس وقت صرف تین ہزار قابل جنگ افراد تھے۔ نیز اسباب کی شدید کمی تھی ۔ اس بنا پر مسلمان اس حالت میں نہ تھے کہ قریش کے عظیم لشکر کا کامیاب مقابلہ کر سکیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسی نے کہا کہ ہم فارس کے ملک میں جب گھوڑے کی فوج کے حملہ کا خطرہ محسوس کرتے تھے تو ہم اپنے اور ان کے درمیان خندق کھود دیتے تھے ( انا کنا بأرض فارس اذا تخوفنا الخیل خند قنا علینا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشورہ کو فوراً مان لیا اور مدینہ کے کنارے خندق کھود کر قریش کی فوج کو شہر کے باہر روک دیا۔ خندق کا لفظ فارسی لفظ کندہ کا معرب ہے ۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے خندق کھودی وہ ایران کا بادشاہ منوچہر بن فریدوں ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حکمت کی بات مومن کا کھویا ہوا سامان ہے ۔ وہ جہاں پائے تو وہ اسی کا ہے ( الحكمة ضالة المؤمن خاين وجدها فهو احق بھا) آپ کا حال یہ تھا کہ آپ اگر دشمن کے یہاں بھی کوئی کارگر تدبیر دیکھتے تو اس کو اختیار فرما لیتے ۔ اس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان پیغمبر اسلام کی اس سنت کو اپنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کی وجہ مسلم رہنماؤں کا منفی ذہن ہے۔ وہ اغیار کی سرگرمیوں کو صرف "سازش" کے روپ میں دیکھتے ہیں ۔ وہ ان کو "تدبیر" کے روپ میں نہیں دیکھ پاتے ۔ ان کے اس بگڑے ہوئے مزاج نے ان کے اندر سے یہ صلاحیت ختم کر دی ہے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت غیر قوموں کی کارروائیوں کا مطالعہ کریں اور ان سے سبق لے کر ان کے کارگر طریقوں کو استعمال کریں۔ کامیاب وہ ہے جو دشمن کی سازشوں کو ان کے سازشی پہلو سے الگ کرکے خالص تدبیری پہلو سے دیکھے ۔ اغیار کی کارروائیوں کو بھی وہ اپنے لیے مفید بنالے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page